LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یقین ہے آرمینیا ایران کی سلامتی کیخلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا: عباس عراقچی ٹرمپ نے ایران کیخلاف کوئی اقدام کیا تو خطے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا: ابراہیم عزیزی وفاقی حکومت نے گورنر خیبرپختونخوا کی تبدیلی کا امکان مسترد کردیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیٹی زکریا کو پانچ روز بعد ہی عہدے سے ہٹا دیا ریلوے کوچز کے پرزوں کی بروقت خریداری نہ ہونے پر وفاقی وزیر برہم، انکوائری کا حکم استنبول میں سیلاب سے جانی نقصان پر شہباز شریف کا اظہار افسوس گورنر پنجاب نے اپنی استاد کو گورنر ہاؤس میں اپنی کرسی پر بٹھا دیا نشے کی حالت میں خاتون کی گاڑی کو ٹکر مارنے والا پولیس اہلکار گرفتار پٹرول مزید 3 روپے 93 پیسے سستا، ڈیزل کی قیمت برقرار فضل الرحمٰن سے دہشتگردوں کے پشت پناہوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی: مریم نواز پرامن یورپی شہریوں کیلئے روس کے دروازے بند نہیں ہونگے: ماریہ زخارووا امریکا ایران جنگ سے عراق کو 60 ارب ڈالر کا نقصان ہوا سندھ حکومت کا انٹرن شپ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا فیصلہ پاکستان عالمی سطح پر اہم معدنیات کی نئی منزل بننے کی جانب گامزن چین کا اسرائیل سے مغربی کنارے میں بستیوں کے قیام کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

چیف آف دی آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب

Web Desk

8 December 2025

اسلام آباد: چیف آف دی آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز نے نئے قائم ہونے والے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز میں تینوں مسلح افواج کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے علاقائی و عالمی چیلنجز کے پیشِ نظر مشترکہ اور مربوط دفاعی حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں کہا کہ نئے ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کا قیام ملکی دفاعی ڈھانچے میں ایک تاریخی اور بنیادی تبدیلی ہے، جو مستقبل کے ملٹی ڈومین آپریشنز کے لیے تینوں سروسز کو ایک مربوط کمانڈ کے تحت لانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جدید طرزِ جنگ میں خطرات تیزی سے بدل رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ بری، فضائی اور بحری فورسز ایک متحد نظام کے تحت زیادہ موثر انداز میں کام کریں۔فیلڈ مارشل کے مطابق:“ہر سروس اپنی آپریشنل تیاریوں کے لیے اپنی انفرادی صلاحیتیں برقرار رکھے گی، جبکہ ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز تینوں افواج کی آپریشنل ہم آہنگی اور اشتراک کو مضبوط کرے گا۔ بالا کمانڈ کی یکجہتی کے ساتھ ساتھ افواج اپنی اندرونی خود مختاری اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھیں گی۔”خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے بھارت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحمل کا مظاہرہ ضرور کرتا ہے مگر کسی خودفریبی کا شکار نہ رہا جائے۔انہوں نے خبردار کیا:“اگلی بار جواب پہلے سے زیادہ برق رفتار اور شدید ہوگا۔”فیلڈ مارشل نے مزید کہا کہ طالبان رجیم کو یہ واضح پیغام دے دیا گیا ہے کہ ان کے پاس فتنۂ خوارج اور پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، لیکن ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔فیلڈ مارشل نے کہا:“سب جان لیں کہ پاکستان کا تصور ناقابلِ تسخیر ہے، اور اس کی حفاظت ایمان سے سرشار جانبازوں اور متحد قوم کے پختہ عزم نے کر رکھی ہے۔”