LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عوام کو ریلیف دینے کیلئے پٹرولیم لیوی کو مکمل ختم کیا جائے: حافظ نعیم اسلام آباد پر دھاوا بولنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن نقوی پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان6 کروڑ 50 لاکھ یورو کے 3 اہم ترقیاتی معاہدوں پر دستخط بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج عمران خان کی بہنوں اور بچوں کی حراست غیر قانونی ہے، شدید مذمت کرتے ہیں: شیخ وقاص اکرم سومنات کا حوالہ بار بار آنے کے لیے استعمال کیا، ہم پرامن رہیں گے: جنید اکبر کی وضاحت ایران رویہ بدلے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: مائیک والٹز علیمہ کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی 30 روز کیلئے نظر بند اسلام آباد سومنات نہ جنید اکبر ہی محمود غزنوی، وفاق اپنا دفاع کرے گا: خواجہ آصف وزیراعظم جنرل اسمبلی میں کشمیر، فلسطین کے مسائل اٹھائیں گے: عاصم افتخار بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.5 ریکارڈ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے: قطر پائیدار امن کیلئے تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے: مریم نواز شریف ہنگو میں شہید ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا مصر، سوڈان اور اعلیٰ امریکی حکام کے سوڈان جنگ کے خاتمے کیلئے اہم مذاکرات

مشرق وسطیٰ میں پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی، عباس عراقچی

Web Desk

20 September 2026

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے زور دے کر کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار سلامتی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی، بلکہ خطے کا پائیدار امن غیر ملکی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک کی باہمی بات چیت اور مشترکہ حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔ انڈونیشیا میں منعقدہ گلوبل ڈائیلاگ فورم سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ خطے کے ممالک کو اپنے استحکام، ترقی اور مستقبل کے فیصلوں کے لیے آپس میں مذاکرات کرنے چاہئیں اور بیرونی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے بغیر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں پر محیط غیر ملکی مداخلت، عسکری دباؤ اور مسلسل جنگوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال سے کبھی سلامتی پیدا نہیں ہوتی اور نہ ہی جبر سے امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ عالمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جب بڑی طاقتوں کے مفادات کے تحت بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو پھر ‘قانون کی حکمرانی’ کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر انسانی حقوق کو چند قوموں کا فطری حق اور دیگر کے لیے مشروط رعایت بنا دیا جائے تو انہیں عالمگیر انسانی حقوق قرار نہیں دیا جا سکتا۔