LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولینڈ کے شہر کراکوف میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 6 افراد ہلاک، 15 زخمی ایران نے میزائل اور ڈرون کی پیداواری لائنیں زیر زمین منتقل کر دیں، پاسداران انقلاب ایران کو روس سے جدید ایس 400 ائیر ڈیفنس سسٹم ملنے کا امکان، معاہدہ طے پا گیا وزیراعلیٰ پنجاب کے دورہ لندن کے اخراجات کی تفصیل دی جائے، پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ذاتی محافظ کو قتل کردیا گیا روس نے ایک دن میں یوکرین کے 903 ڈرونز اور 4 نیپچون میزائل مار گرائے، وزارت دفاع دبئی کے پرفیوم برانڈ نے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا اردوان کا ٹرمپ سے رابطہ، ایران امریکا کشیدگی سفارتکاری سے حل کرنے پر زور جے ڈی وینس نے آئندہ الیکشن کیلئے الگ سیاسی بیانیہ تشکیل دینے کی کوششیں تیز کر دیں ایران کے جزیرے قشم میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں نیتن یاہو وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر، گادی آئزن کوٹ کو حکومت سازی کی دعوت سندھ میں تعلیم کا بجٹ 601 ارب روپے، صورتحال تسلی بخش نہیں: حافظ نعیم الرحمان ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا کو تباہ کن جواب دیں گے: محسن رضائی ایس ایم ای برآمد کنندگان کے لیے 300 ارب روپے مختص کرنے کا فیصلہ فرانس میں یونینز اور طلبہ تنظیموں کا ایک اور احتجاجی مظاہرے کا اعلان

خوش مزاج بچی کو خودکشی کے دہانے پہنچا دیا: والدین کا گوگل پر مقدمہ

Web Desk

6 November 2026

امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کی عدالت میں 13 سالہ طالبہ ‘ایما’ کے والدین نے ٹیک کمپنی گوگل کے خلاف ایک سنگین اور اپنی نوعیت کا پہلا قانونی مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کی بیٹی نے اسکول سے ملنے والے کروم بک کمپیوٹر پر گوگل سرچ کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) فیچرز استعمال کر کے خودکشی کے طریقوں اور اپنی آخری رسومات کی منصوبہ بندی کی۔

مقدمے کے متن کے مطابق، نارتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والی ایما ذہنی بیماری کی کوئی تاریخ نہ رکھنے کے باوجود اپنے اسکول کمپیوٹر پر گوگل سرچ میں مدغم اے آئی ٹولز استعمال کرنے کے بعد شدید نفسیاتی بحران کا شکار ہو گئی۔ 17 مارچ کو اسکول مانیٹرنگ سافٹ ویئر کے ذریعے پتہ چلنے پر جب والدین نے بیٹی کے اکاؤنٹ میں لاگ ان کر کے دیکھا تو وہ ریئل ٹائم میں الوداعی خط لکھ رہی تھی، جس پر والد نے بروقت مداخلت کر کے اس کی جان بچائی۔ متاثرہ خاندان کے وکیل اینڈریو لڈل نے مؤقف اپنایا ہے کہ اسکولوں کو گوگل سرچ سروس اس وقت تک مکمل طور پر بند کر دینی چاہیے جب تک سرچ سے اے آئی موڈ ختم نہ کیا جائے، کیونکہ گوگل کے حفاظتی فلٹرز بچوں کے تحفظ میں مکمل ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

دوسری جانب گوگل کے ترجمان جوز کاسٹانیڈا کا کہنا ہے کہ وہ دعوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کے اے آئی موڈ میں خودکشی سے متعلق مواد کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی فلٹرز موجود ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا میں اے آئی کمپنیوں کو اس طرح کے متعدد قانونی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں اوپن اے آئی کے خلاف 16 سالہ ایڈم رین کی خودکشی کا زیرِ التوا مقدمہ بھی شامل ہے۔ مزید برآں، گوگل، ٹک ٹاک اور میٹا نے کیلیفورنیا کے اس نئے قانون کو روکنے کے لیے بھی عدالت سے رجوع کر رکھا ہے جو 16 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے نشہ آور فیچرز کی فراہمی پر پابندی عائد کرتا ہے۔