LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور سعودی عرب کا میڈیا، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے خاتمے پر مذاکرات شروع نیپال میں دو ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، ایک غیر ملکی مسافر ہلاک پولیس سے جھگڑے کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی ضمانت منظور ملک کے حالات اچھے نہیں، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور خواتین رہنماؤں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے: اعتزاز احسن وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی و دیگر کی بازیابی کا کیس: پشاور ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجنے کا حکم ضلع مہمند میں پولیو ٹیم کی سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ، ایلیٹ فورس کے 2 جوان شہید، 1 زخمی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی اپنی چھت، اپنا گھر سکیم: ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد گھر مکمل خلیجی خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی چاول برآمدات میں نمایاں اضافہ قشم پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی مڈ ٹرم الیکشن: قبل از وقت ووٹنگ 2022ء کے مقابلے نمایاں طور پر زیادہ امریکا نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کر دیا، امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کا انکشاف امریکی صدر کی ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی، خلیجی ممالک نئی جنگ کے خدشات سے دوچار ایوان نمائندگان، سینیٹ پر کنٹرول کی جنگ: امریکا میں وسط مدتی انتخابات کا میدان آج سجے گا

امریکی صدر کی مقبولیت وسط مدتی انتخابات سے قبل کم ترین سطح پر پہنچ گئی

Web Desk

3 November 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت وسط مدتی انتخابات سے قبل تیزی سے گِر کر اپنی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے، جس سے حکمراں ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

رائٹرز اور اپسوس (Reuters/Ipsos) کے تازہ ترین مشترکہ سروے کے نتائج کے مطابق، امریکی ووٹرز کی ایک بہت بڑی تعداد آئندہ کانگریس کے انتخابات میں اپنے ووٹ کو صدر ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن جماعت کی براہِ راست مخالفت کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سروے کے مطابق کانگریس کے انتخابات میں 46 فیصد ووٹرز نے ڈیموکریٹس جبکہ صرف 38 فیصد نے ریپبلکنز کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد ڈیموکریٹس کو نمایاں طور پر 8 پوائنٹس کی برتری حاصل ہو چکی ہے۔ ان انتخابی نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ ایران جنگ کے بعد امریکہ میں ایندھن اور تیل کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اضافے نے ریپبلکن پارٹی کے لیے سنگین انتخابی مشکلات پیدا کر دی ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن امریکی شہریوں کی شرح محض 32 فیصد پر سمٹ گئی ہے۔

سروے کے مطابق آزاد ووٹرز میں سے 50 فیصد کا کہنا تھا کہ کانگریس کے انتخابات میں ان کا ووٹ صدر ٹرمپ کی مخالفت میں کاسٹ ہوگا، جبکہ صرف 13 فیصد نے کہا کہ وہ صدر کی حمایت میں ووٹ ڈالیں گے، اس کے علاوہ 33 فیصد آزاد ووٹرز کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی شخصیت ان کے ووٹ دینے کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ مہنگائی کے حوالے سے 78 فیصد ووٹرز نے واضح کیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ان کے انتخابی فیصلے میں سب سے انتہائی اہم مسئلہ ہوگی۔ مہنگائی سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ڈیموکریٹس کی اقتصادی پالیسیوں کو 43 فیصد جبکہ ریپبلکن کی پالیسیوں کو 32 فیصد افراد نے درست قرار دیا۔ دوسری جانب انتخابی جوش و خروش کے لحاظ سے 49 فیصد ڈیموکریٹ ووٹرز نے کہا کہ وہ رواں سال انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے لیے انتہائی پرجوش ہیں، جبکہ ریپبلکن ووٹرز میں یہ حوصلہ افزا شرح صرف 33 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ موجودہ سیاسی اندازوں اور رجحانات کے مطابق ڈیموکریٹس کے لیے ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) کا کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات بہت زیادہ روشن ہیں، تاہم سینیٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنا تاحال ڈیموکریٹس کے لیے ایک مشکل ہدف دکھائی دیتا ہے۔