LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
قشم پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی مڈ ٹرم الیکشن: قبل از وقت ووٹنگ 2022ء کے مقابلے نمایاں طور پر زیادہ امریکا نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کر دیا، امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کا انکشاف امریکی صدر کی ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی، خلیجی ممالک نئی جنگ کے خدشات سے دوچار ایوان نمائندگان، سینیٹ پر کنٹرول کی جنگ: امریکا میں وسط مدتی انتخابات کا میدان آج سجے گا سعودی ولی عہد کا چینی صدر کو باہمی تعلقات مضبوط بنانے کا پیغام سعودی وزیر دفاع کا فرانسیسی ہم منصب سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال امریکی صدر کی مقبولیت وسط مدتی انتخابات سے قبل کم ترین سطح پر پہنچ گئی دبئی میں 30 روزہ قومی جشن کا آغاز، اماراتی پرچم، ثقافت اور ورثے کے رنگ نمایاں ہوں گے امارات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کیلئے سالانہ حکومتی مقابلہ شروع ایران کے جزیرہ قشم اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں شدید دھماکوں کی اطلاعات کراچی میں گاڑی میں سوار افراد کی فیملی سے بدتمیزی، وحشیانہ تشدد آپریشن الفارس الشهم 3 کے تحت 343 ٹن انسانی امداد امارات سے غزہ روانہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں بات چیت تیز ہو گئی: ایرانی وزیر خارجہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کو کسی طویل جنگ میں دھکیلنے کے سخت خلاف ہیں، جے ڈی وینس

ایوان نمائندگان، سینیٹ پر کنٹرول کی جنگ: امریکا میں وسط مدتی انتخابات کا میدان آج سجے گا

Web Desk

3 November 2026

امریکہ میں آج (3 نومبر کو) وسط مدتی انتخابات کا میدان سج چکا ہے، جہاں ملک کے دونوں ایوانوں یعنی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) اور سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمراں ریپبلکن پارٹی اور اپوزیشن ڈیموکریٹس کے درمیان انتہائی سخت اور کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

آج ہونے والے ان اہم ترین انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں جبکہ سینیٹ کی 35 نشستوں پر پولنگ ہو رہی ہے، اس کے علاوہ ملک کی 36 ریاستوں کے نئے گورنروں کا انتخاب بھی اسی عمل کے تحت کیا جائے گا۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی موجودہ اکثریت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک کڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کو ہر ایوان میں کم از کم 4 نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔ یہ انتخابی نتائج نہ صرف آئندہ کی قانون سازی بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے باقی ماندہ دو سالہ دورِ صدارت کی ملکی و خارجی پالیسیوں پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوں گے۔

رائٹرز اور اپسوس (Reuters/Ipsos) کے تازہ ترین مشترکہ قومی سروے کے مطابق، کانگریس کے انتخابی بیلٹ پر ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز کے مقابلے میں 8 پوائنٹس کی نمایاں برتری حاصل ہے، جہاں سروے میں شامل 46 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ڈیموکریٹس کی جبکہ 38 فیصد نے ریپبلکنز کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت کی شرح گِر کر محض 32 فیصد پر آ گئی ہے، جو ان کی سیاسی مقبولیت کی تاریخ کی کم ترین سطح 31 فیصد کے بالکل قریب ہے۔ اس طویل سروے میں کل 1765 امریکی شہریوں کی رائے کو شامل کیا گیا تھا، جبکہ اس کے نتائج میں 2 فیصد کی ممکنہ غلطی کا مارجن بھی رکھا گیا ہے۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ قومی سطح کے یہ سروے عام عوامی رجحانات کی عکاسی تو ضرور کرتے ہیں، تاہم کانگریس کے حتمی اور اصل نتائج کا فیصلہ مختلف ریاستوں اور مخصوص انتخابی حلقوں میں ہونے والے زمینی مقابلوں سے ہوگا، اس لیے صرف سروے کی بنیاد پر ڈیموکریٹس کی برتری کو حتمی کامیابی کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔