LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے جزیرہ قشم اور آبنائے ہرمز کے اطراف میں شدید دھماکوں کی اطلاعات کراچی میں گاڑی میں سوار افراد کی فیملی سے بدتمیزی، وحشیانہ تشدد آپریشن الفارس الشهم 3 کے تحت 343 ٹن انسانی امداد امارات سے غزہ روانہ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں بات چیت تیز ہو گئی: ایرانی وزیر خارجہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کو کسی طویل جنگ میں دھکیلنے کے سخت خلاف ہیں، جے ڈی وینس ایپک سربراہی اجلاس میں صدر پوتن اور شی جن پنگ کی ملاقات کی تیاریاں جاری، کریملن مغربی ممالک زوال کا شکار، روس کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں: سرگئی شوئیگو ثمر ہارون بلور نے محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کا چارج سنبھال لیا حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات آج ہوں گے مریم نواز کی پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے 7 اور 11 ماہ بعد ملاقات ہوئی: بیرسٹر سلمان صفدر ڈیزل 7 روپے 76 پیسے اور پٹرول 3 روپے 40 پیسے فی لٹر سستا مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا سے مذاکرات کیلئے حکومت کو خصوصی اختیارات دے دیے غیر قانونی موبائل سمز کی خرید و فروخت اور فراڈ کا نیٹ ورک پکڑا گیا سندھ یوتھ کارڈ کے اجرا کی تیاریاں مکمل، بلاول بھٹو رواں ماہ افتتاح کریں گے

روس اور یوکرین کے ایمرجنسی وارننگ سسٹمز پر سائبر حملے

Web Desk

2 November 2026

روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں دونوں ممالک کے سرکاری ہنگامی انتباہی (ایمرجنسی الرٹ) نظام مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر سائبر حملوں کی زد میں آ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں عوام میں وقتی طور پر شدید تشویش پھیل گئی۔

ماسکو میں روسی وزارتِ ہنگامی حالات کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان کی آفیشل الرٹ ایپ کو ایک بڑے پیمانے کے سائبر اٹیک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کا مقصد حملہ آوروں کو شہریوں کو جعلی اطلاعات بھیجنے کے قابل بنانا تھا۔ روسی وزارت نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کے باوجود عوامی انتباہی نظام معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ٹھیک اس واقعے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے جب یوکرین کی فضائی حملوں سے آگاہ کرنے والی موبائل ایپ پر بھی مبینہ ہیکنگ کے بعد غلط اور خوفناک انتباہات جاری کر دیے گئے تھے۔

روسی ایمرجنسی ایپ پر ہیکرز کی جانب سے ایک بوگس اور جعلی پیغام بھیجا گیا جس میں یہ من گھڑت دعویٰ کیا گیا تھا کہ یوکرین نے روس کے تمام علاقوں کی طرف جوہری ہتھیاروں سے لیس ڈرون روانہ کر دیے ہیں، اور اس پیغام میں شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ تین ہفتوں کا کھانے پینے کا راشن جمع کر کے فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں چلے جائیں۔ دوسری جانب یوکرین کی فضائی خطرے سے خبردار کرنے والی ایپ پر بھی ایسے ہی مشکوک اور جعلی پیغامات نظر آئے، جس کے بعد یوکرین کے اعلیٰ حکام نے اس ہیکنگ کا باقاعدہ الزام روس پر عائد کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایپ میں موصول ہونے والے کسی بھی غیر معمولی یا مشکوک پیغام کو یکسر نظر انداز کریں۔ دونوں ممالک میں ان جعلی الرٹس کی وجہ سے شہریوں میں خوف و ہراس پایا گیا، تاہم متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ اصل ہنگامی نظام محفوظ اور بدستور فعال ہیں۔