مغربی ممالک زوال کا شکار، روس کو کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں: سرگئی شوئیگو
Web Desk
2 November 2026
روس کی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے مغربی ممالک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجتماعی مغرب تیزی سے زوال کی طرف جا رہا ہے، جبکہ روس کو اندرونی طور پر کمزور کرنے اور اس کی ریاستی بنیادوں کو نقصان پہنچانے کی سازشیں مسلسل جاری ہیں۔
سرگئی شوئیگو نے 2 نومبر کو ’بین الاقوامی ہفتۂ اقوامِ روس‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک انسانی معاشرے کی بدترین اخلاقی خرابیوں کا مرکز بنتے جا رہے ہیں، جہاں انسانی حقوق اور آزادیوں کے بنیادی تصورات اپنی اصل روح کھو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مغربی معاشروں میں ان اقدار کو روایتی ڈھانچے کو کمزور کرنے اور ہر قسم کی بے قاعدگی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مغرب میں اب انصاف کی فراہمی کے بجائے محض الزامات کی بنیاد پر کسی کو مجرم قرار دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں کسی پر الزام عائد کرنے کے لیے ٹھوس ثبوت پیش کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا، اور اب یہی غیر منصفانہ طرزِ عمل بین الاقوامی تعلقات میں بھی سرایت کر چکا ہے۔
روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے دعویٰ کیا کہ یوکرین میں جاری فوجی کارروائی کے کامیاب اختتام اور روس کی فتح کے امکانات روشن ہونے کے ساتھ ہی مغربی ممالک کی جانب سے روس کی مخالفت مزید جارحانہ اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ روسی ریاست کو اندر سے نقصان پہنچانے کے خواہشمند عناصر کو بھرتی کرنے، انہیں بھاری مالی معاونت فراہم کرنے اور ان کی پشت پناہی کرنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ سرگئی شوئیگو نے کہا کہ روس کو تاریخی طور پر متعدد بار بیرونی حملوں اور اس کے عوام کو محکوم بنانے کی سازشوں کا سامنا رہا ہے، لیکن روسی قوم نے ہمیشہ متحد ہو کر ان کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس کا کسی بھی ملک کو تباہ کرنے یا یورپ پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، کیونکہ بعض سابق نوآبادیاتی طاقتیں اپنے اندرونی بحرانوں کے باعث خود زوال پذیر ہیں اور روس کو انہیں نقصان پہنچانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
یوکرین تنازع کے سفارتی حل پر بات کرتے ہوئے سرگئی شوئیگو نے بتایا کہ روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا اگلا اہم دور متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں منعقد کرنے کی تیاریاں حتمی مراحل میں ہیں۔ ان کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن اس بات کی پہلے ہی تصدیق کر چکے ہیں کہ یہ ملاقات ممکنہ طور پر رواں سال نومبر کے دوسرے نصف میں متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سیشن میں بھی حسبِ سابق روس، امریکہ اور یوکرین کے اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوں گے، اور فی الحال وفود کی ترکیب یا سطح میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ روس کی اصل قوت صرف اس کی جدید عسکری صلاحیتیں یا اقتصادی خودمختاری نہیں بلکہ اس کے شہریوں کا غیر متزلزل اتحاد اور ریاستی قیادت پر عوام کا مکمل اعتماد ہے۔
متعلقہ عنوانات
سفیر سید حیدر شاہ نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کو اسناد سفارت پیش کر دیں
3 November 2026
امریکی پیغامات سے ثابت ہوا حالیہ جنگ میں واشنگٹن نے ایرانی فتح تسلیم کر لی: محمد رضا عارف
3 November 2026
امریکا ایران کیخلاف جنگ کے ذریعے عالمی معیشت میں خلل ڈال رہا ہے: علی باقری کنی
3 November 2026
ایران نے افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کا امکان مسترد کر دیا
3 November 2026
آبنائے ہرمز بحران: ترک صدر کا متبادل تجارتی راستے بنانے پر زور
3 November 2026
ڈی آئی خان: شہریوں کے تحفظ کیلئے جدید ایس او ایس ایمرجنسی سسٹم متعارف
3 November 2026
مریم نواز کا چودھری سالک کو ہتکِ عزت کا نوٹس بھجوانے کا اعلان
3 November 2026
چائلڈ پورنوگرافی اور کم عمر بچوں کو بلیک میل کرنے کے الزام میں دو ملزم گرفتار
3 November 2026