LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس سے جھگڑے کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی ضمانت منظور ملک کے حالات اچھے نہیں، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور خواتین رہنماؤں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے: اعتزاز احسن وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی و دیگر کی بازیابی کا کیس: پشاور ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیجنے کا حکم ضلع مہمند میں پولیو ٹیم کی سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ، ایلیٹ فورس کے 2 جوان شہید، 1 زخمی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی اپنی چھت، اپنا گھر سکیم: ایک لاکھ 28 ہزار سے زائد گھر مکمل خلیجی خطے میں کشیدگی کے باوجود پاکستان کی چاول برآمدات میں نمایاں اضافہ قشم پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی مڈ ٹرم الیکشن: قبل از وقت ووٹنگ 2022ء کے مقابلے نمایاں طور پر زیادہ امریکا نے ایک بار پھر ایران پر حملہ کر دیا، امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کا انکشاف امریکی صدر کی ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی، خلیجی ممالک نئی جنگ کے خدشات سے دوچار ایوان نمائندگان، سینیٹ پر کنٹرول کی جنگ: امریکا میں وسط مدتی انتخابات کا میدان آج سجے گا سعودی ولی عہد کا چینی صدر کو باہمی تعلقات مضبوط بنانے کا پیغام سعودی وزیر دفاع کا فرانسیسی ہم منصب سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال امریکی صدر کی مقبولیت وسط مدتی انتخابات سے قبل کم ترین سطح پر پہنچ گئی

اسرائیل نے حالیہ انتخابی نتائج کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات محض شکوک و شبہات قرار دیدیئے

Web Desk

2 November 2026

اسرائیل کی مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے جج نوم سولبرگ نے واضح کیا ہے کہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں مبینہ غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق جاری تحقیقات سے انتخابی نتائج کی شفافیت اور قانونی حیثیت پر کوئی حرف نہیں آتا، اور اب تک سامنے آنے والے تمام الزامات محض شکوک و شبہات کی حد تک ہیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی ’شن بیت‘ نے گزشتہ ہفتے اس امر کی باقاعدہ تحقیقات شروع کی تھیں کہ آیا عرب اسرائیلی سیاسی جماعت ’راعم‘ (Ra’am) کو خلیجی ریاست قطر کی جانب سے کوئی مالی معاونت فراہم کی گئی تھی یا نہیں۔ تاہم، قطری حکومت اور جماعت کے سربراہ منصور عباس دونوں ہی ان تمام الزامات کی دوٹوک تردید کر چکے ہیں۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکمران جماعت ’لیکود‘ نے عرب جماعتوں پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور ووٹ چوری کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ حالیہ انتخابات میں عرب جماعتوں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے اور اب نئی حکومت سازی کے عمل میں ان کا سیاسی کردار انتہائی کلیدی بن چکا ہے۔

مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ جسٹس نوم سولبرگ نے ایک ویڈیو بیان میں زور دیا کہ انتخابات مجموعی طور پر مکمل درست اور شفاف طریقے سے منعقد ہوئے ہیں، اور اگرچہ کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی کی قانون کے مطابق جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، لیکن الزامات کے درست ثابت ہونے کی صورت میں بھی مجموعی انتخابی عمل اور اس کے حتمی نتائج کی قانونی حیثیت ہرگز متاثر نہیں ہوگی