LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسرائیلی پارلیمنٹ میں سابق یہودی پولیس افسر اسلامی جماعت راعم کا رکن منتخب اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کے مطالبات زور پکڑنے لگے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باوجود امارات کی کرپٹو معیشت میں 32 فیصد اضافہ واشنگٹن کے لہجے میں مکمل تبدیلی واضح ہے، جو ایک مثبت اشارہ ہے: محسن رضائی ایرانی و قطری حکام کے دوحہ میں مذاکرات، خطے میں کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر گفتگو روس، یوکرین کے انسانی حقوق کے نمائندوں کے درمیان پُراعتماد رابطے قائم ہیں: کریملن یوکرین میں بجلی کی فراہمی میں مشکلات، لاکھوں گھر بجلی سے محروم ہوگئے: زیلنسکی قطر سے گیس آرہی ہے، دسمبر، جنوری میں وافر سپلائی جاری رہے گی: علی پرویز ملک نیویارک سٹی میراتھون کی 50 ویں ریس میں پاکستانی رنرز بھی ایکشن میں ہوں گے مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نےبھارتی صحافی نِدھی رازدان سے شادی کرلی ٹرمپ کے مار اے لاگو کلب کی حفاظت کیلئے ’ایونجر‘ فضائی دفاعی نظام نصب کردیا گیا پاکستان میں سعودیہ کو ٹیکس فری تیل ذخیرہ کرنے کی پیشکش کراچی: ورلڈ کلچر فیسٹیول کی رونقیں عروج پر، تیسرے روز بھی فن و ثقافت کے رنگ نمایاں چیئرمین پی سی بی کی ون ڈے ٹرائی سیریز جیتنے پر قومی ٹیم کو مبارکباد پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششیں، ایران امریکا مذاکرات آج دوحہ میں متوقع

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری قومی سلامتی کا معاملہ بن گئی: محمد علی

Web Desk

31 October 2026

چیئرمین نجکاری کمیشن اور مشیر برائے نجکاری محمد علی نے دوٹوک الفاظ میں انتباہ کیا ہے کہ بجلی کے شعبے کے دیرینہ مسائل کو حل نہ کرنا اب ملکی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

محمد علی نے ایک تفصیلی انٹرویو اور بریفنگ کے دوران بتایا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کو محض روایتی معاشی اصلاحات نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ایک انتہائی اہم معاملہ سمجھا جانا چاہیے۔ حکومت نے اپنے ابتدائی مرحلے کے منصوبے کے تحت اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے، جن کے لیے ’ڈیو ڈیلیجنس‘ (جانچ پڑتال) کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے۔ حکومتی کوشش ہے کہ آئندہ سال (2027) کی پہلی سہ ماہی تک ان تینوں ڈسکوز کی نجکاری کا عمل مکمل کر لیا جائے، تاہم اگر نامزد سرمایہ کاروں کی جانب سے مزید وقت کا مطالبہ کیا گیا تو بولی کا یہ عمل کچھ تاخیر کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

چیئرمین نجکاری کمیشن نے مزید انکشاف کیا کہ حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں (حیسکو اور سیپکو) کی نجکاری پر بھی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور توقع ہے کہ 2027ء کی دوسری سہ ماہی میں ان کمپنیوں کے حوالے سے عملی پیش رفت سامنے آجائے گی۔ اسی طرح لاہور، ملتان، پشاور اور ہزارہ ڈسکوز کی نجکاری کے لیے بھی لائحہ عمل جاری ہے، جبکہ 2027ء کے دوسرے نصف میں مزید تقسیم کار کمپنیوں کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈسکوز کی اس وسیع پیمانے پر نجکاری کا بنیادی مقصد بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی لانا، سروس کے معیار کو بہتر بنانا اور ملک کے توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات متعارف کرانا ہے۔

محمد علی کا کہنا تھا کہ جب تک ملک میں بجلی کی قیمتیں کم نہیں کی جاتیں، اس وقت تک پاکستانی صنعتیں عالمی منڈی میں کسی دوسری معیشت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، جبکہ پاکستان کی برآمدات طویل عرصے سے لگ بھگ 30 ارب ڈالر کے اِردگرد ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ انہوں نے ایک اہم اور خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ صارفین اب تیزی سے روایتی گرڈ سسٹم کو چھوڑ کر سولر سسٹمز اور بیٹری اسٹوریج کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، اور اگر بجلی کے شعبے میں بروقت اور ضروری اصلاحات نہ کی گئیں تو مستقبل میں صارفین قومی گرڈ سے مکمل طور پر بجلی خریدنا چھوڑ سکتے ہیں، جس سے بجلی کے پورے نظام کو شدید ترین مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نجکاری کمیشن کے چیئرمین نے بتایا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں ایک مسابقتی مارکیٹ سسٹم متعارف کرانے کی بھی بھرپور تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت مجوزہ نظام نافذ ہونے پر صارفین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنی مرضی کی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کا انتخاب کر سکیں۔ اس سے تمام کمپنیاں بہتر خدمات اور کم نرخوں کے ذریعے صارفین کو راغب کرنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری سے قبل ایک طویل مدتی ٹیرف پالیسی کی منظوری کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ نئے سرمایہ کاروں کو بجلی کے ریٹس، ان کی کی گئی سرمایہ کاری کے تحفظ اور سازگار کاروباری ماحول کی واضح ضمانتیں دی جا سکیں۔

ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد علی نے یقین دلایا کہ نجکاری کے بعد اداروں میں کام کرنے والے موجودہ ملازمین کے مفادات کا مکمل تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہوگی، اور اس سلسلے میں عبوری مدت کے دوران ملازمین کو یکمشت ملازمت سے نہ فارغ کرنے کی ضمانت دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاروں کو بجلی کے لائن لاسز کم کرنے اور بلوں کی ریکوری بہتر بنانے پر خصوصی مراعات دی جائیں گی، جبکہ کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہونے سے حاصل ہونے والے مالی فوائد عام صارفین تک بھی منتقل کیے جائیں گے۔

بجلی کے شعبے کے مجموعی مالیاتی بوجھ اور کیپیسٹی پیمنٹس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت تقریباً 40 ہزار میگاواٹ ہے، جبکہ کیپیسٹی چارجز اور پیمنٹس کی مد میں قومی خزانے سے تقریباً 1700 ارب روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔ اس لیے سستی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ موجودہ پیداواری معاہدوں سے جنم لینے والے مسائل کا مستقل حل بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حکومت پاکستان سٹیٹ آئل (PSO) اور سوئی گیس کمپنیوں کی نجکاری کے امکانات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے، جس کے تحت پی ایس او کے اسٹریٹجک شعبے حکومت کے پاس ہی رکھنے جبکہ غیر اسٹریٹجک شعبے نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ آخر میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان تمام اصلاحات کا بنیادی مقصد ملکی توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم، مؤثر اور مسابقتی بنانا ہے تاکہ صنعتی ترقی کی رفتار تیز ہو سکے۔