LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی سی بی اور الائیڈ بینک میں سکولز ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کیلئے 10 کروڑ روپے کا معاہدہ امریکا مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر بڑے حملے کیلئے تیار، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیا ماسکو میں گیس برآمد کرنیوالے ممالک کے آٹھویں سربراہی اجلاس کا اعلامیہ منظور جام کمال خان کا دوحہ میں پاکستانی مصنوعات کے ایکسپورٹ ڈسپلے سینٹر کا افتتاح مولانا فضل الرحمٰن کی راجہ ناصر عباس اور پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کمانڈر کویت نیول فورس کی نیول ہیڈکوارٹرز آمد، نیول چیف سے ملاقات 9 مئی کیس: سہیل آفریدی سمیت پانچ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان ہاکی فیڈریشن کا ملک بھر میں اسکولز ہاکی لیگ شروع کرنےکا فیصلہ ایبٹ آباد پبلک سکول کے مسائل حل کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں، گورنر فیصل کریم الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم: انتخابی شیڈول مانگ لیا گیا ایران کا قطر سے ثالثی کے تقاضوں پر عمل اور محتاط بیانات کا مطالبہ گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، ملک کسی جرنیل کی جاگیر نہیں:مولانا فضل الرحمان جماعت اسلامی کا اسلام آباد مارچ نومبر کے وسط میں ہوگا: حافظ نعیم اسرائیلی انتخابات کے بعد حکومت سازی کی دوڑ، نیتن یاہو اور اپوزیشن کے متضاد دعوے جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی: 26 ویں و 27 ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی، متن

جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی: 26 ویں و 27 ویں آئینی ترامیم سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوئی، متن

Web Desk

28 October 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ صدر مملکت کو بھیجے گئے استعفے کے متن کے مطابق انہوں نے ذاتی وجوہات، صحت کی خرابی اور ضمیر کی آواز پر یہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے بعد ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ ججز کی تقرریوں اور تبادلوں میں انتظامیہ کی بڑھتی مداخلت سے عدلیہ کے آزادانہ کردار اور عام سائلین کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے۔ اپنے عدالتی کیریئر میں 23 ہزار سے زائد مقدمات کا فیصلہ کرنے والے جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ان کا ضمیر جج کے فرائض جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا وہ وکالت میں واپس آ کر عوامی حقوق کا تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کریں گے۔