LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
تین ملکی ٹورنامنٹ: انگلینڈ کیخلاف کامیابی پر محسن نقوی کی قومی ہیروز کو مبارکباد ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند ٹاور پر چڑھ گئی خلا میں بڑھتے کچرے سے نمٹنے کے لئے منصوبے پر کام شروع سعودی عرب اور یونان کا محفوظ بحری راستوں، توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق بائیں بازو کے رہنما لوئس سلوا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب فرانس میں احتجاج کرنے والی تنظیموں نے 5 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا لانا نصیبہ یو این سیکرٹری جنرل بننے کی کوشش میں گریٹر اسرائیل منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہیں، قالیباف اسرائیلی الیکشن: مقبوضہ مغربی کنارے کی تمام زمینی گزر گاہیں بند، نقل و حرکت پر پابندی ایران اور اتحادی اسرائیلی انتخابات پر اثر انداز ہونے کیلئے حملے کر سکتے ہیں، نیتن یاہو سری لنکا کی بین الاقوامی پانیوں میں امدادی کارروائی، 40 ایرانی ملاحوں کو بچا لیا ایران نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر دیں، ٹرمپ انتظامیہ سفارتکاری کیلئے تیار، جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں: اسماعیل بقائی سینئر ایرانی عہدیدار کی دوحہ سے ایک وفد تہران پہنچنے کی تصدیق

مظاہرین اپنے مؤقف پر قائم رہیں، احتساب کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹیں: باقر قالیباف

Web Desk

23 October 2026

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مغربی ممالک میں احتجاج کرنے والے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پر قائم رہیں اور حکومتوں کے احتساب سے پیچھے نہ ہٹیں۔ انہوں نے مظاہرین کو متنبہ کیا کہ وہ شناخت اور نسل پر مبنی تقسیم کی کوششوں کا مقابلہ کریں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں سپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ عوامی غصے کا رخ موڑنے کے لیے ایک مخصوص اور منظم طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ عوام کو اپس میں تقسیم کر کے طاقتور حلقوں کو احتساب سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے جیفری ایپسٹین اسکینڈل، غزہ کی بحرانی صورتحال، ایران کے خلاف جنگی بیانیے اور عالمی بدعنوانی کو ایک ہی بااثر اور مخصوص گروہ سے منسلک قرار دیا۔

ایرانی سپیکر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں شدید مہنگائی، رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات، تعلیمی مسائل اور بنیادی عوامی خدمات کے معیار میں کمی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔