LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر تیزی ٹرمپ انتظامیہ اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے درمیان معاہدہ طے یوکرینی صدر مذاکرات کیلئے کسی دوسرے شخص کو ذمہ داری سونپیں: ڈونلڈ ٹرمپ روس کی پاک افغان کشیدگی کے خاتمے کیلئے ثالثی کی پیشکش امریکی سپریم کورٹ کا نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کی اپیل پر سماعت سے انکار فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کا ملک بدری سے بچنے کیلئے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع یوکرین صدر کا روسی حملوں کی روک تھام کیلئے پیٹریاٹ دفاعی نظام کی فراہمی کا مطالبہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہڈیوں کے امراض کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے فرانس میں بدترین ہنگامے: صدر ایمانوئل کی حکومت شدید سیاسی بحران سے دوچار حوثیوں کے حملے: سعودیہ اور امارات کا قریبی روابط اور مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور حوثی باغیوں کیساتھ سیاسی مذاکرات سے مسئلے کا حل نکلنے کی توقع نہیں: ڈاکٹر عبدالعزیز صقر نیب کے سہیل آفریدی کے معاون خصوصی ڈاکٹر امجد سمیت 5 افراد کو طلبی کے نوٹس جاری متحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق خیبرپختونخوا میں گورنر راج کسی لالچ میں نہیں لگایا گیا: شرجیل میمن امریکی صدر کی مقبولیت میں مزید ریکارڈ کمی، شرح 33 فیصد پر آگئی

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج بریسٹ کینسر سے آگاہی کا دن منایا جارہا ہے

Web Desk

19 October 2026

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد خواتین میں اس موذی مرض کے علامات، بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

پاکستان میں یہ مرض انتہائی تشویشناک صورتِ حال اختیار کر چکا ہے اور اعداد و شمار کے مطابق ہر 9 میں سے ایک پاکستانی خاتون کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں چھاتی کے سرطان کے شدید خطرات لاحق ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد مختلف قسم کے کینسر کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سے سالانہ 90 ہزار سے زائد خواتین صرف بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہیں اور بروقت علاج نہ ملنے کے باعث ان میں سے تقریباً 40 ہزار خواتین لقمہ اجل بن جاتی ہیں۔

طبی ماہرین اور جراحوں کا کہنا ہے کہ چھاتی کا سرطان ابتدائی مرحلے میں مکمل طور پر قابلِ علاج ہے، تاہم ملک میں اس کے پھیلاؤ اور اموات کی بڑی وجوہات سماجی شرم و ہچکچاہٹ، لاعلمی اور علامات ظاہر ہونے کے باوجود بروقت معائنہ نہ کروانا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں آگاہی مہمات کے باعث مرض کی تشخیص کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، لیکن ملک بھر میں سکریننگ اور جدید علاج کی سہولیات کی بہتری کے لیے مزید ہنگامی اقدامات درکار ہیں۔ ماہرین نے تجویز دی ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کی ہر خاتون کو سال میں کم از کم ایک مرتبہ مامو گرافی سکریننگ ٹیسٹ لازمی کروانا چاہیے۔