LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی بانی پی ٹی آئی کی شفا اسپتال منتقلی اور معالج تک رسائی کا کیس وکالت نامہ نہ ہونےسماعت ملتوی ملاقاتوں پر پابندی:سپریم کورٹ کا ہوم سیکریٹری پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو نوٹس جاری

برطانیہ، روس سے مبینہ تعلقات پر معروف پاکستانی ٹائیکون کو پابندیوں کا سامنا

Web Desk

19 December 2025

برطانیہ نے روس کے توانائی شعبے سے مبینہ تعلقات کی بنیاد پر پاکستانی نژاد معروف تاجر مرتضیٰ لاکھانی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق برطانوی حکومت نے روس کے خلاف عائد پابندیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتے ہوئے مرتضیٰ لاکھانی اور ان سے منسلک متعدد کاروباری اداروں کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرتضیٰ لاکھانی پر روسی توانائی کے شعبے میں مبینہ کردار اور کاروباری روابط کے باعث پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ لاکھانی گزشتہ طویل عرصے سے لندن کو اپنا کاروباری مرکز بنائے ہوئے ہیں اور وہ بین الاقوامی سطح پر شپنگ اور توانائی کے شعبے میں ایک نمایاں نام سمجھے جاتے ہیں۔

برطانوی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں مرکنٹائل اینڈ میری ٹائم گروپ بھی شامل ہے، جس کے علاوہ لاکھانی سے وابستہ دیگر کئی کاروباری اداروں کو بھی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت متعلقہ افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کیے جا سکتے ہیں جبکہ برطانیہ میں کاروباری سرگرمیوں اور مالی لین دین پر بھی سخت پابندیاں عائد ہوں گی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ روس کے خلاف اپنی پابندیوں کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کر رہا ہے اور ان افراد و اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن پر روسی معیشت، بالخصوص توانائی کے شعبے، کو سہارا دینے کا شبہ ہے۔

برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیوں کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا اور یوکرین جنگ کے تناظر میں اس کے مالی وسائل کو محدود کرنا ہے۔