LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی میڈیکیئر فنڈز میں 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے فراڈ میں مطلوب تین ملزمان کے پاکستان میں ہونے کا انکشاف ‘ہر شہری سے قربانی کی توقع کی جائے گی’، برطانوی فوج کے سربراہ نے جنگ کے خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کر دیا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قابضین کا فلسطینیوں اور امریکی صحافی پر حملہ سکیورٹی فورسز کا چاغی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک سعودیہ کو حوثیوں کیخلاف اسرائیلی مدد کی پیشکش قبول کرنی چاہئے: صدر ٹرمپ کا مشورہ پاکستان کا اسرائیلی قبضہ ختم کرنے، آزاد فلسطین کیلئے ناقابلِ تنسیخ مدت مقرر کرنے کا مطالبہ آسٹریلیا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، دو افراد ہلاک یورپی یونین کے سیٹلائٹ منصوبے کے منظوری کیلئے شراکت داروں کیساتھ مذاکرات جی سیون کا 44 ممالک میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کیلئے 2.5 بلین ڈالر مختص کرنے کا اعلان چین کا مسئلہ فلسطین کے دو ریستی حل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان سیکا اجلاس: اسرائیلی صدر کے خطاب کے دوران 10 ممالک کے مندوبین کا واک آؤٹ امریکی ریاست اوریگون کے سکول میں فائرنگ، 4 افراد ہلاک، حملہ آور بھی مارا گیا آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل کھولنا خطے سے امریکی انخلا سے مشروط ہے: ایرانی فوج ایران کی سعودیہ اور یمن میں اختلافات ختم کرانے کیلئے سفارتی کردار ادا کرنیکی پیشکش قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کا لبنان کی حمایت کا عزم

یورپی یونین کے سیٹلائٹ منصوبے کے منظوری کیلئے شراکت داروں کیساتھ مذاکرات

Web Desk

17 October 2026

یورپی یونین (EU) امریکی ارب پتی ایلون مسک کی خلائی و سیٹلائٹ کمپنی سپیس ایکس (SpaceX) پر اپنا انحصار ختم اور کم کرنے کے لیے اپنے مشترکہ سیٹلائٹ منصوبے کو حتمی شکل دینے کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مسابقتی قوانین کے تحت جلد منظوری کے حصول کے لیے اپنے شراکت دار اداروں لیونارڈو ایس پی اے (Leonardo SpA)، ایئربس ایس ای (Airbus SE) اور تھیلز ایس اے (Thales SA) کے ساتھ اہم مذاکرات جاری ہیں۔

عالمی میڈیا رپورٹ اور امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ کے مطابق، اس تزویراتی منصوبے کو “پراجیکٹ برومو” (Project Bromo) کا نام دیا گیا ہے، جسے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین (Ursula von der Leyen) نے یورپ کا ممکنہ “یورپی چیمپئن” قرار دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایک ایسا مضبوط یورپی ادارہ قائم کرنا ہے جو یورپ کو خلائی و مواصلاتی نظام میں سپیس ایکس سمیت دیگر امریکی سیٹلائٹ پرووائیڈرز کے اثر و رسوخ سے آزاد کر سکے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال سے جاری ان مذاکرات میں مسابقتی (Antitrust) قوانین اور ممکنہ قانونی خدشات کو دور کرنے پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے تاکہ باضابطہ درخواست سے قبل تمام رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔ اگرچہ کمپنیوں نے ابھی تک باضابطہ درخواست جمع نہیں کرائی، تاہم یورپی حکام کو توقع ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں یورپی کمیشن کو منظوری کی حتمی فائل پیش کر دی جائے گی۔