LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی میڈیکیئر فنڈز میں 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے فراڈ میں مطلوب تین ملزمان کے پاکستان میں ہونے کا انکشاف ‘ہر شہری سے قربانی کی توقع کی جائے گی’، برطانوی فوج کے سربراہ نے جنگ کے خطرات کے حوالے سے انتباہ جاری کر دیا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قابضین کا فلسطینیوں اور امریکی صحافی پر حملہ سکیورٹی فورسز کا چاغی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک سعودیہ کو حوثیوں کیخلاف اسرائیلی مدد کی پیشکش قبول کرنی چاہئے: صدر ٹرمپ کا مشورہ پاکستان کا اسرائیلی قبضہ ختم کرنے، آزاد فلسطین کیلئے ناقابلِ تنسیخ مدت مقرر کرنے کا مطالبہ آسٹریلیا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، دو افراد ہلاک یورپی یونین کے سیٹلائٹ منصوبے کے منظوری کیلئے شراکت داروں کیساتھ مذاکرات جی سیون کا 44 ممالک میں غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کیلئے 2.5 بلین ڈالر مختص کرنے کا اعلان چین کا مسئلہ فلسطین کے دو ریستی حل کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان سیکا اجلاس: اسرائیلی صدر کے خطاب کے دوران 10 ممالک کے مندوبین کا واک آؤٹ امریکی ریاست اوریگون کے سکول میں فائرنگ، 4 افراد ہلاک، حملہ آور بھی مارا گیا آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل کھولنا خطے سے امریکی انخلا سے مشروط ہے: ایرانی فوج ایران کی سعودیہ اور یمن میں اختلافات ختم کرانے کیلئے سفارتی کردار ادا کرنیکی پیشکش قطری وزیراعظم محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کا لبنان کی حمایت کا عزم

گورنر راج کا دو ماہ بعد بھی جائزہ لیا جا سکتا، مذاکرات کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے: خواجہ آصف

Web Desk

16 October 2026

 پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے نفاذ کے تیسرے روز صوبے میں وفاقی اقدامات کے خلاف بدامنی، احتجاج یا جلسے جلوسوں کے آثار دکھائی نہیں دیے جب کہ ان اقدامات پر ردعمل زیادہ تر قانونی اور آئینی بحث تک محدود ہے۔

انہوں نے کہا خیبر پختونخوا کی سابقہ حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر تیرہ سال تک کرپشن ہوتی رہی ہو تو اس کے نتائج ایسے ہی نکلتے ہیں کہ چھتیں گرنے لگتی ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر گورنر راج نافذ نہ کیا جاتا تو، ان کے بقول، متعلقہ حکمرانوں کے بس میں ہوتا تو پورے صوبے کی چھتیں گر جاتیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے چھ ماہ بعد صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم یہ جائزہ دو ماہ بعد بھی ممکن ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں وفاقی اقدامات کے خلاف زمینی سطح پر کوئی نمایاں ردعمل سامنے نہیں آیا۔

انہوں نے سیاسی مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتے اور مذاکرات کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے مذاکرات کو پورا وقت دیا، لیکن بالآخر دستیاب گنجائش ختم ہوگئی۔

وزیر دفاع نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے والے افراد وزیر اعلیٰ سے ہدایات لیتے تھے، جبکہ وزیر اعلیٰ خود ایسے شخص سے ہدایات لیتے تھے جو افغانستان میں بیٹھا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہوئی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اپنا مؤقف پیش کرنے اور دل کی بھڑاس نکالنے کا پورا موقع دیا گیا۔

اُن کا صوبے میں مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے کہنا تھا کہ وہاں لوٹ مار کرنے والے افراد غائب ہوگئے ہیں اور ان کے مطابق ایک شخص کو پکڑا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس موقع پر مذکورہ شخص کی شناخت یا گرفتاری کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا میں احتجاج یا بدامنی کے آثار دکھائی نہیں دیے اور وفاقی اقدامات پر فی الحال قانونی و آئینی بحث جاری ہے۔

خواجہ آصف کا محمود خان اچکزئی سے اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے ساتھ پرانے روابط ہیں اور وہ پرانی سیاست کی پیداوار ہیں، سیاسی اختلافات کے باوجود تعلقات ختم نہیں کیے جاتے اور ناطے نہیں توڑے جاتے۔

افغان مہاجرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان میں بہت اچھی حکومت ہے اور افغان مہاجرین وہاں جا کر رہ سکتے ہیں، انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ افغان مہاجرین وہاں دودھ اور شہد کی نہروں سے فائدہ اٹھائیں۔