LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
کے پی میں ایمرجنسی مسترد کرتے ہیں، تحریک انصاف کا وفاق سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ بھارتی ریاست منی پور میں بدامنی، مودی حکومت کشیدگی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کے شواہد ایک بار پھر سامنے آگئے ایران کی سعودیہ کو یمن سے مذاکرات کیلئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش آبنائے ہرمز میں سُپر آئل ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کی ویڈیو جاری ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملہ، ایک پاکستانی جاں بحق، 11 افراد زخمی یو اے ای میں بارش کا امکان، تیز ہواؤں اور گردوغبار کی پیشگوئی امریکا سے بڑی طاقتوں کی ایران کو فتح کرنیکی کوششیں بھی کوڑے دان میں جا پہنچیں: محسن رضائی یو اے ای سپریم کورٹ نے غیر ملکی رہائشی کی ملک بدری کا حکم منسوخ کر دی دبئی میں انٹرنیشنل میمن آرگنائزیشن کی نو منتخب عالمی قیادت کے اعزاز میں عشائیہ جبوتی سے یمن جانے والی تارکین وطن کی کشتی الٹ گئی، 139 افراد ہلاک امریکا کی یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی اور انٹیلی جنس تبادلہ بند کرنے کی دھمکی سوڈان میں سونے کی کان پر فضائی حملہ، 72 مزدور ہلاک سعودی فوجی اتحاد کی ریاض ایئرپورٹ پر پروجیکٹائل گرنے کی تصدیق حوثیوں نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پسندیدہ عدالتی نامزدگیوں پر مفاہمت

Web Desk

10 October 2026

اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں پر جاری کشیدگی کے خاتمے کے بعد ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر رانا ثناء اللہ کو باضابطہ طور پر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (JCP) کا رکن مقرر کر دیا گیا ہے۔ یہ تقرریاں پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور نون لیگ کے رکن قومی اسمبلی شیخ آفتاب احمد کے کمیشن سے مستعفی ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی ہیں۔

نئی سیاسی مفاہمت کے تحت بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں حکومتی بنچوں جبکہ رانا ثناء اللہ سینیٹ کی نمائندگی کریں گے۔ ذرائع کے مطابق دونوں حکمران اتحادی جماعتوں کے درمیان اس نئی پیش رفت کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے تجویز کردہ اور حمایت یافتہ امیدواروں کے ناموں پر دوبارہ غور کیے جانے کا قومی امکان ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ ماہ سے پیپلز پارٹی کے اندر عدالتی عہدوں کے لیے اپنے امیدواروں کی منظوری نہ ملنے پر شدید بے چینی پائی جاتی تھی، جس کا اب اس اہم تناظر میں حل نکال لیا گیا ہے۔