LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سموگ اور فوگ کا خدشہ: بلدیاتی الیکشن اپریل 2027 میں کرانے کی تجویز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر پاکستان کی سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں پانی سے متعلق قرارداد منظور بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، سرمایہ کاروں کی توجہ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج پر مرکوز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح امریکا کا کرس مرفی کو العدید ایئربیس تک رسائی دینے سے انکار آبنائے ہرمز مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں ہے: ایرانی فوج کا پھر دعویٰ فیئر فورڈ ایئربیس سے برطانوی نوجوان گرفتار

لانگ مارچ، دھرنے: پشاور میں تاجر برادری کا خیبر پختونخوا حکومت کیخلاف احتجاج

Web Desk

6 October 2026

پشاور میں تاجر برادری خیبر پختونخوا حکومت کی مسلسل احتجاجی سیاست، لانگ مارچ اور دھرنوں کے خلاف سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر آ گئی ہے۔ صوبائی اسمبلی چوک پشاور میں تاجروں اور دکانداروں کی بڑی تعداد نے جمع ہو کر صوبائی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی، جس سے تجارتی مراکز اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور روز بروز کے دھرنوں کی بجائے صوبے کے حقیقی عوامی و معاشی مسائل کے حل پر توجہ دے۔ تاجر رہنماؤوں نے موقف اختیار کیا کہ مسلسل سیاسی کشیدگی اور احتجاج کی وجہ سے صوبے میں کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں اور صوبے کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر تاجروں کے معاشی تحفظ اور تاجر دوست ماحول کی فراہمی پر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ کار مزید پھیلایا جائے گا۔