LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا سعودی تنصیبات پر حملے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ امریکی سینیٹر کرس مرفی کا ایران کیساتھ سفارتی ڈیل پر توجہ دینے پر زور پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں

حکومتی وفد نے پی ٹی آئی پر دہشتگردی کے معاملے پر عدم تعاون کا الزام عائد کردیا

Web Desk

3 October 2026

اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہونے کے بعد حکومتی وفد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ فریقین کے درمیان بات چیت کے دروازے بند نہیں ہوئے، تاہم خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور صوبائی حکومت کے کردار کے معاملے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

وزیراعظم کے مشیر امیر مقام نے کہا کہ اپوزیشن ارکان اٹھ کر چلے گئے، مذاکرات کسی بھی وقت دوبارہ ہوسکتے ہیں، تاہم اپوزیشن دہشتگردی سے متعلق معاملات پر حکومت کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرسکی۔

شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ دو دن ملک کو انتشار سے بچانے کے لیے مذاکرات میں بھرپور کوشش کی اور مستقل مزاجی سے اپوزیشن سے بات کرتی رہی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران مسودہ چار مرتبہ تبدیل کیا گیا اور حکومتی وفد اپنی قیادت سے بھی مسلسل مشاورت کرتا رہا۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذاکرات میں بنیادی معاملہ خیبرپختونخوا کی صورتحال تھا۔ حکومت کا مطالبہ تھا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف اپنا کردار ادا کرے، تاہم ان کے بقول صوبائی حکومت اس معاملے پر تعاون کے لیے تیار نہیں ہوئی۔

رانا ثنا اللہ نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے معاملے کو نسبتاً ثانوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملاقاتوں پر رضامندی ظاہر کردی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں جن معاملات کو تسلیم نہیں کیا گیا، وہ اب واضح ہیں، تاہم اگر دہشتگردی کے معاملے پر تعاون کیا جائے تو مذاکرات دوبارہ ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں تمام باتوں پر اتفاق ہوگیا تھا، تاہم دہشتگردی کے خلاف تعاون کے معاملے پر اختلاف برقرار رہا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتی اور خیبرپختونخوا کی قیادت کے کہنے پر مذاکرات کا ڈرافٹ بار بار تبدیل کیا گیا۔

طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت کو اس صورتحال پر مایوسی ہوئی اور مذاکراتی ٹیم بھی خیبرپختونخوا کی قیادت کے رویے سے مایوس ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں بہت سے آپشنز موجود ہیں اور حکومت غیرمعینہ مدت تک انتظار نہیں کرسکتی۔

حکومتی وفد کے ارکان نے واضح کیا کہ آئندہ جو بھی اقدام ہوگا، آئین کے مطابق ہوگا، جبکہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا امکان بھی موجود رکھا گیا ہے۔