LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خاران کے مغوی ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو بازیاب امریکہ اور جنوبی کوریا کے معاہدے میں مزید بہتری آگئی: ٹرمپ برطانیہ میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام میں خرابی، 2 ہزار سے زائد پروازیں متاثر رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے پہلے روز کے بعد اپوزیشن قیادت کی اہم بیٹھک سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا پُرتشدد انتشار، 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کیساتھ بلاامتیاز نمٹا جائیگا: کور کمانڈرز کانفرنس اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین سمیت اہم امور پر مؤقف مدلل انداز میں پیش کیا: اسحاق ڈار وزیر خزانہ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا صومالی قزاقوں سے چار پاکستانی چھڑوا لیے، کل وطن پہنچیں گے: اسحاق ڈار الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 14 دسمبر کو کرانے کی تجویز دیدی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان ملاقات، تمام بات چیت راز میں رکھنے پر زور جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا

یوکرین اور مغربی ممالک روس کے خلاف ہائبرڈ جنگ میں ملوث ہیں: روسی سفیر کا دعویٰ

Web Desk

1 October 2026

اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران روسی سفیر البرٹ خوریف نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین اپنے مغربی سرپرستوں کے ساتھ مل کر روس کے خلاف مکمل پیمانے کی ہائبرڈ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور کیف حکومت نے روسی شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے دہشت گردانہ حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔ روسی سفیر کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران یوکرین کو فراہم کی جانے والی مغربی فوجی امداد 160 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور 54 ممالک اس کی معاونت کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مغربی پابندیاں روسی معیشت کو تباہ کرنے میں ناکام رہی ہیں، جبکہ اس کے برعکس خود یورپی یونین کو 1 سے 1.6 ٹریلین یورو تک کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ روسی سفیر نے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک بین الاقوامی بحری قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ روس یوکرینی بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ ہے۔