LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹانک: پولیس وین پر دہشت گردوں کا حملہ، فائرنگ سے 3 اہلکار شہید نیتن یاہو اچانک ابوظہبی پہنچ گئے، اماراتی صدر سے ملاقات کی: برطانوی میڈیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے، کچھ بھی ہوسکتا ہے: امیر مقام میر رضا علی قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کی مدت ختم، کارروائی 2 اکتوبر تک ملتوی اسلام آباد ہائیکورٹ: پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث اٹک پل اور راستوں کی بندش کے خلاف کیس امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور آج ہوگا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن پر بیک ڈور کام چل رہا ہے،طارق فضل چوہدری پاک بحریہ کی نئی شامل کی گئی آبدوز کی پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل عازمینِ حج کی سہولت کے لیے پاک حج ایپ میں متعدد نئے فیچرز متعارف پاکستان نے افغانستان میں اندرونی جھڑپوں سے متعلق الزامات مسترد کردیے یونانی دارالحکومت ایتھنز میں دھماکا،4 امریکیوں سمیت 6 افراد ہلاک راولپنڈی اور اسلام آباد میں انٹرنیٹ سروس متاثر، شہریوں کو مشکلات کا سامنا سہیل آفریدی کوبانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو بحرہند میں بھی امریکی جنگی جہازوں کو نشانہ بنائیں گے: پاسداران انقلاب

Web Desk

27 September 2026

ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کی بحریہ کے شعبہ سیاسی امور کے نائب علی محمدی نے امریکہ کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خطے میں عسکری کشیدگی یا جنگ کا دوبارہ آغاز ہوا تو ایرانی افواج نہ صرف آبنائے ہرمز بلکہ بحرِ ہند تک امریکی جنگی جہازوں اور ایئر کرافٹ کیریئرز کو بھی براہِ راست نشانہ بنا کر تباہ کر دیں گی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق علی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر امریکی صدر واقعی آبنائے ہرمز کو اپنی ملکیت يا اپنے کنٹرول کا علاقہ سمجھتے ہیں تو امریکی بحری جہاز اور جنگی بیڑے اس شاہراہ سے غائب کیوں ہیں؟

علی محمدی نے مزید چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ عالمی سطح پر آبنائے ہرمز پر اپنے تسلط کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے اپنے کسی ڈسٹرائر یا عسکری بحری جہاز کو اس سمندری علاقے کے قریب لا کر دکھانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی سمندری حد اور صلاحیت صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہی بلکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں بحرِ ہند میں موجود امریکی بحری اثاثے بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہوں گے۔