LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا نیا دور آج ہوگا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد اضافہ آبنائے ہرمز میں امریکی زیرِ آب ڈرون پکڑنے کا ایرانی دعویٰ، واشنگٹن نے مسترد کردیا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے آپشن پر بیک ڈور کام چل رہا ہے،طارق فضل چوہدری پاک بحریہ کی نئی شامل کی گئی آبدوز کی پہلی لائیو ویپن فائرنگ کامیابی سے مکمل عازمینِ حج کی سہولت کے لیے پاک حج ایپ میں متعدد نئے فیچرز متعارف پاکستان نے افغانستان میں اندرونی جھڑپوں سے متعلق الزامات مسترد کردیے یونانی دارالحکومت ایتھنز میں دھماکا،4 امریکیوں سمیت 6 افراد ہلاک راولپنڈی اور اسلام آباد میں انٹرنیٹ سروس متاثر، شہریوں کو مشکلات کا سامنا سہیل آفریدی کوبانی پی ٹی آئی کا مکمل اعتماد حاصل ہے، چیئرمین پی ٹی آئی ایران تجارت نہیں کرسکتا تو کوئی بھی تجارت نہیں کرے گا،ایرانی آرمی چیف یمنی فورسز کا حالیہ حملوں میں 4 ایرانی عسکری ماہرین کی ہلاکت کا دعویٰ امریکا صرف ایران کو مٹانے یا تباہ کرنے کا خواب ہی دیکھ سکتا ہے، ایرانی صدر ایرانی فوج کا خطے میں واشنگٹن کی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دینے کا اعلان دھمکیوں اور پابندیوں سے اپنی مرضی مسلط کرنے کا دور ختم ہو رہا ہے، کاظم غریب آبادی

واشنگٹن سے مذاکرات پر اب کوئی بھروسہ نہیں: ایرانی صدر

Web Desk

27 September 2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران سے جاری کردہ اپنے ایک نئے اور اہم ترین بیان میں واضح کیا ہے کہ تہران کو امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات پر اب بالکل اعتماد نہیں رہا، کیونکہ سفارتی مذاکرات کے ہر دور کے فوراً بعد ایران کو حملوں، اقتصادی پابندیوں اور معاندانہ اقدامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کسی اجلاس کی نہ تو کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی مقصد، کیونکہ امریکہ ماضی میں اپنے طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری میں مکمل ناکام رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے انتباہ کیا کہ اگر ایران کے لیے عالمی تجارتی راستے بلاک کیے گئے تو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی تہران کا ایک فطری اور قانونی ردِعمل ہو گا، تاہم اس بحران کا حل طاقت کے استعمال سے نہیں ہو سکتا اور ایران سے طاقت کی زبان میں بات نہیں کی جانی چاہیے۔ خطے کی صورتِ حال اور یمن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایران یمن میں کسی عسکری کارروائی میں براہِ راست شریک نہیں ہے اور وہ سعودی عرب و یمن کے درمیان جنگ کے خاتمے کا حامی ہے۔ ایرانی صدر نے سعودی عرب کو مسلم امت کے اتحاد کا مرکز قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل نے تہران اور ریاض کے تعلقات خراب کرنے کے لیے خطے میں سازشیں کیں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے پیچھے بھی وہی ملوث ہو سکتا ہے۔