جنگ ختم کرنے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے، ایران لڑائی جاری نہیں رکھنا چاہتا: پزشکیان
Web Desk
25 September 2026
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکی ٹی وی چینل ‘فوکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ایران جنگ جاری رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، اور اب تنازع کے خاتمے کا حتمی فیصلہ امریکا کو کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم ایران پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنے یا طاقت کے استعمال کی پالیسی کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ جب باہمی بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے معاملات سلجھائے جا سکتے ہیں تو ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوئی تک نہیں بنتی، لیکن اسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیزیوں کے نتیجے میں یہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی۔ انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنے کو تیار ہے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ ماضی میں ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے محض دو ہفتے بعد ہی اسے کیوں ختم کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر موجودہ امریکی حکومت بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے سنجیدگی سے معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو تہران مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹے گا، اور امریکی مڈٹرم انتخابات سے پہلے یا بعد میں معاہدہ ہونے سے ایران کے مؤقف پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اس انٹرویو کے ساتھ ساتھ سفارتی سرگرمیوں کا احوال دیتے ہوئے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی ہے، اگرچہ یہ ابتدائی مذاکرات فی الحال کسی بڑی پیش رفت کا باعث نہیں بن سکے۔
امریکا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے مسعود پزشکیان نے ایران پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور کہا کہ امریکا جس ملک کو بھی سیاسی یا معاشی طور پر تباہ کرنا چاہتا ہے، اس پر دہشت گردی کا لیبل لگا دیتا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران نے کبھی کسی دوسرے ملک پر جارحیت نہیں کی بلکہ ہمیشہ اپنی سرزمین کے دفاع میں جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ یمن کے حوثیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حوثی اپنے فیصلوں اور اقدامات کے خود ذمہ دار ہیں اور تہران سے احکامات نہیں لیتے، البتہ ان کے ساتھ روایتی رابطے ضرور موجود ہیں لیکن کوئی منظم عسکری کمانڈ شیئرنگ نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے کہا کہ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے اور حکومت چلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی برقرار ہے کیونکہ سعودی عرب نے جمعرات کو حوثیوں کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اس سے قبل مکہ سمیت اہم علاقوں کے لیے سکیورٹی انتباہات بھی جاری کیے گئے تھے۔ حوثیوں کی ان کارروائیوں اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کی وجہ سے خطے میں جنگی بادل گہرے ہو رہے ہیں اور خلیج و بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں سے تیل کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
متعلقہ عنوانات
موسمیاتی اہداف کے ثمرات عوام اور مقامی کمیونٹیز تک پہنچنے چاہیے، وزیرخزانہ
25 September 2026
اسحاق ڈار کی بحرینی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
25 September 2026
چمن سیکٹر پر افغان جارحیت اور دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاک
25 September 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں امریکی کاروباری کونسلز کے وفود سے ملاقات
25 September 2026
امریکا نے شام کو 36 چوری شدہ نوادرات واپس کر دیے
25 September 2026
اقوام متحدہ کا عالمی امن کیلئے پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف
25 September 2026
یہ آخری کوشش ہوگی اور پی ٹی آئی پھر کبھی اسلام آباد کا رخ نہیں کرے گی: خواجہ آصف
25 September 2026
علیمہ خان کیخلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کا فیصلہ مؤخر
25 September 2026