عباس عراقچی کی امریکی حکام سے ملاقات پر ایرانی رکن پارلیمنٹ نے سوال اٹھا دیا
Web Desk
24 September 2026
ایرانی پارلیمنٹ (مجلس شورائے اسلامی) کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے رکن ابراہیم رضائی نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی امریکی حکام کے ساتھ حالیہ ملاقات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے اس ملاقات کو ایران کے اصولی اور مضبوط مؤقف کو کمزور کرنے کے مترادف قرار دیا اور وزارتِ خارجہ کے اختیارات پر تنقید کرتے ہوئے یاد دلایا کہ وزارتِ خارجہ بنیادی طور پر پالیسی ساز ادارہ نہیں بلکہ طے شدہ پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کا ذمہ دار ہے۔
ابراہیم رضائی نے وزیر خارجہ سے مطالبہ کیا کہ وہ قوم کو واضح کریں کہ انہوں نے کس آئینی اور قانونی اختیار کے تحت امریکی نمائندے سے ملاقات کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ تہران کی شرائط واشنگٹن تک پہنچائی جا چکی ہیں، تاہم ان شرائط کی آڑ میں اس قسم کی ملاقاتوں کا جواز تراشنا سفارتی کمزوری کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید تنبیہ کی کہ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی انتہائی حساس معاملات ہیں جہاں کسی قسم کی لاپرواہی کی گنجائش نہیں، اور ایرانی پارلیمنٹ ملک کے مصلحتوں اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گی۔
متعلقہ عنوانات
چمن سیکٹر پر افغان جارحیت اور دراندازی کی کوشش ناکام، متعدد طالبان ہلاک
25 September 2026
جنگ ختم کرنے کا فیصلہ امریکا کو کرنا ہے، ایران لڑائی جاری نہیں رکھنا چاہتا: پزشکیان
25 September 2026
وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں امریکی کاروباری کونسلز کے وفود سے ملاقات
25 September 2026
امریکا نے شام کو 36 چوری شدہ نوادرات واپس کر دیے
25 September 2026
اقوام متحدہ کا عالمی امن کیلئے پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف
25 September 2026
یہ آخری کوشش ہوگی اور پی ٹی آئی پھر کبھی اسلام آباد کا رخ نہیں کرے گی: خواجہ آصف
25 September 2026
علیمہ خان کیخلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کا فیصلہ مؤخر
25 September 2026
امریکا بعض شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز 7 روز میں کھول دیں گے: عراقچی
25 September 2026