LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ دفاعی اتحاد کا سعودی سلامتی کیلئے تمام ضروری اقدامات کی حمایت کا اعلان سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحدی علاقے میں جارحیت ناکام بنادی، کئی طالبان ہلاک ایران مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا، ایرانی صدر چین اور امریکا اپنی عوام کی ترقی کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں: صدر ٹرمپ امریکا، ایران کی ڈیڈ لاک ختم کرنیکی کوششیں، جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر غور لبنانی وزیراعظم کی ایرانی صدر سے ملاقات، خودمختاری کے احترام پر زور لانگ مارچ کی تیاریوں پر اپوزیشن کی بڑی بیٹھک، خیبرپختونخوا کی صورتحال کا جائزہ نیتن یاہو کا جہاز گزرنے کیوں دیا؟ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا فرانس پر دوہرے معیار کا الزام 80 ممالک کا آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ، ایران، حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت فرانس کا سعودی اہم بندرگاہ ینبع کے تحفظ کیلئے فوجی وسائل فراہم کرنے کا اعلان ٹرمپ کی تین خبر رساں اداروں پر عائد پابندی غیر آئینی قرار امید ہے ترکیہ دوبارہ امریکا کے F-35 لڑاکا طیارے کے پروگرام میں شامل ہو جائیگا: اردگان روسی علاقوں پر رات گئے یوکرینی ڈرون حملے: 40 ڈرون تباہ، آئل ڈپو کو نقصان امریکا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر اسرائیل مخالف مظاہرہ برطانوی رائل ائیرفورس کا جنگی طیارہ تربیت کے دوران گر کر تباہ

روسی فوج کا یوکرین پر بڑا فضائی حملہ، دفاعی و توانائی تنصیبات نشانے پر

Web Desk

24 September 2026

روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے رات گئے ایک وسیع النطاق ڈرون حملے میں یوکرین کی دفاعی صنعتی تنصیبات، توانائی کے اہم مراکز، لاجسٹک ہبز اور عسکری مقصد کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ماسکو انتظامیہ کے مطابق ان حملوں میں دارالحکومت کیف کے قریب ڈرونز کی تیاری کے سامان کے گودام، ‘ٹوکانس ایل ایل سی’ نامی انڈسٹریل یونٹ، اودیسا کے تین بڑے ملٹری لاجسٹک سنٹرز اور اودیسا پورٹ کی طرف جانے والے ایک ڈرائی کارگو عسکری جہاز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب یوکرینی حکام اور مقامی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ ان روسی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کیف، پولتاوا، خارکوف، اودیسا اور بوچا سمیت متعدد علاقوں میں شہری و تجارتی بنیادی ڈھانچے، پیٹرول پمپوں، ریلوے اسٹیشنز اور پیداواری یونٹس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یوکرینی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ پاور گرڈز پر حملوں کے باعث کیف، سومی، خارکوف اور زاپوریژیا ریجنز میں بجلی کی فراہمی جزوی طور پر معطل ہو گئی ہے جبکہ اودیسا میں وسیع آگ پر قابو پانے کے لیے پڑوسی اضلاع سے فائر فائٹرز بلائے گئے ہیں۔ دونوں فریقین کے ان متضاد اور بھاری نقصانات کے دعووں کی اب تک کسی آزاد عالمی ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔