LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر پوتن، ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، کریملن لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود ‘مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ’ کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، اجتماعات اور ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی پاکستان کےنئے مالی سال کے پہلے دو ماہ میں بیرونی قرضوں میں 23 فیصد اضافہ افغان طالبان رجیم کے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل، تمام مار گرائے وزیراعظم کی بوسنیا کے صدارتی کونسل کے چیئرمین سے ملاقات، عالمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں، بل گیٹس سے ملاقاتیں، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات محسن نقوی کی سربراہ پاسداران انقلاب سے ملاقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو آبنائے ہرمز میں جہازوں کیلئے نئی پابندی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ مقرر مسلسل اصلاحات اور مضبوط ذخائرپاکستان کے معاشی منظر نامےکو سہارا دے رہے ہیں: اے ڈی بی او آئی سی مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر سرفہرست رکھے: اسحاق ڈار پاکستان اور سعودی عرب: بھائی چارے سے بالاتر ایک اتحاد، 96 واں سعودی قومی دن پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب حکومت کی فوج و رینجرز کی تعیناتی کی درخواست پنجاب بھر میں انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری

مکہ الائنس مثبت اور بہترین انداز میں آگے بڑھ رہا ہے: ترکیہ

Web Desk

22 September 2026

ترکیے کے وزیرِ خارجہ حقان فیدان نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان قائم ہونے والا ‘مکہ الائنس’ (Makkah Alliance) انتہائی مثبت اور بہترین انداز میں پیشرفت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس سہ فریقی اتحاد کے تحت مشترکہ عسکری ہیڈکوارٹرز کو فعال بنانے کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور طے شدہ معاہدے کے تحت آپریشنل ہیڈکوارٹرز کے لیے عملے اور اعلیٰ فوجی حکام کی تعیناتی جلد مکمل کر دی جائے گی۔

ترکیے کے وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کی اعلیٰ قیادت دفاعی و سیکورٹی معاہدے کو عملی جامہ پہنانے اور دفاعی پیداوار و انٹیلی جنس شیئرنگ میں تعاون کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مکہ الائنس نہ صرف تینوں اسلامی ممالک کے باہمی دفاعی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا بلکہ یہ خطے میں پائیدار امن، استکام اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔