LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد پر دھاوا بولنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا: محسن نقوی پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان6 کروڑ 50 لاکھ یورو کے 3 اہم ترقیاتی معاہدوں پر دستخط بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی ایم پی او کے تحت نظر بندی کے احکامات لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج عمران خان کی بہنوں اور بچوں کی حراست غیر قانونی ہے، شدید مذمت کرتے ہیں: شیخ وقاص اکرم سومنات کا حوالہ بار بار آنے کے لیے استعمال کیا، ہم پرامن رہیں گے: جنید اکبر کی وضاحت ایران رویہ بدلے تو مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: مائیک والٹز علیمہ کے بعد نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی 30 روز کیلئے نظر بند اسلام آباد سومنات نہ جنید اکبر ہی محمود غزنوی، وفاق اپنا دفاع کرے گا: خواجہ آصف وزیراعظم جنرل اسمبلی میں کشمیر، فلسطین کے مسائل اٹھائیں گے: عاصم افتخار بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.5 ریکارڈ امریکا نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی یقین دہانی کرائی ہے: قطر پائیدار امن کیلئے تشدد، نفرت اور انتہا پسندی کا خاتمہ ناگزیر ہے: مریم نواز شریف ہنگو میں شہید ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی نمازِ جنازہ ادا مصر، سوڈان اور اعلیٰ امریکی حکام کے سوڈان جنگ کے خاتمے کیلئے اہم مذاکرات ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی عدالت کے خلاف مزید سخت اقدامات کی تیاری کر لی

جرمن انتخابات: اے ایف ڈی سب سے آگے، وزیراعظم مرز نے نتیجہ تباہ کن قرار دیدیا

Web Desk

21 September 2026

جرمنی کی شمال مشرقی ریاست میکلن برگ فورپومرن کے ریاستی انتخابات میں چانسلر فریڈرک مرز کی اتحادی حکومت کو شدید سیاسی دھچکا پہنچا ہے، جہاں انتہائی دائیں بازو کی دائرہ نما جماعت ‘آلٹرنیٹیو فار جرمنی’ (AfD) سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے پہلے نمبر پر آ گئی ہے۔ یہ انتخابی نتیجہ چانسلر فریڈرک مرز کی قدامت پسند جماعت کے لیے دوسری جنگِ عظیم کے بعد اب تک کا بدترین ریاستی انتخابی نتیجہ ثابت ہوا ہے۔ نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے چانسلر مرز نے اسے تباہ کن قرار دیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے عہدے پر قائم رہیں گے اور بطور چانسلر اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔

ایگزٹ پولز کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی نے 37 فیصد ووٹ حاصل کر کے تاریخی فتح درج کرائی، جبکہ مرکز کی بائیں بازو کی جماعت ‘سوشل ڈیموکریٹک پارٹی’ (SDP) 35.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ دوسری جانب چانسلر مرز کی قدامت پسند جماعت کو صرف 5.5 فیصد ووٹ مل سکے اور وہ بمشکل ہی ریاستی پارلیمان میں داخلے کے لیے لازم 5 فیصد کی حد عبور کر سکی۔ واضح رہے کہ محض ایک ماہ کے دوران ریاستی سطح پر اے ایف ڈی کی یہ دوسری بڑی اور تاریخی کامیابی ہے