LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی ٹرین مارچ، عوامی حقوق کی تحریک جاری ر ہے گی: حافظ نعیم الرحمان ماسکو کی جانب آنے والے 338 ڈرونز تباہ، آئل ریفائنری کی تنصیب کو نقصان باقر قالیباف کی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکا کو پیغامات پہنچانے کی تصدیق بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی علیمہ خان کی گرفتاری کی شدید مذمت؛ فوری رہائی کا مطالبہ حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار خاران میں دہشت گردوں کا مسافر گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ، مزدور زخمی وزیر داخلہ محسن نقوی کی شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے گھر آمد، اہلخانہ سے تعزیت صاف ستھرا پنجاب صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد ہے، مریم نواز جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا

حکومت کا آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے دستبرداری کا اعلان

Web Desk

20 September 2026

وفاقی وزیرِ توانائی اویس احمد خان لغاری نے تاریخی فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آج سے بجلی کی خرید و فروخت سے عملی طور پر باہر ہو رہی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اب کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ حکومت کو بجلی بیچ سکے اور نہ ہی حکومت خود کسی سے بجلی خریدے گی۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس اور اسے استعمال کرنے والے صارفین اب آپس میں آزادانہ اور شفاف بنیادوں پر خود خرید و فروخت کر سکیں گے۔

وزیرِ توانائی نے بتایا کہ عوام اور بالخصوص انڈسٹری کو سستی بجلی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ ۵ سال کے دوران ۸۰۰ میگاواٹ بجلی کی نیلامی کی جائے گی، جبکہ پہلے مرحلے میں ۴۰۰ میگاواٹ بجلی نیلامی کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ اس نئے مسابقتی نظام کے تحت کاروباری ادارے اور صنعتی یونٹس پاور پلانٹس سے براہِ راست اپنی مرضی اور مناسب ریٹس پر بجلی خرید سکیں گے۔ اویس لغاری نے کہا کہ ماضی میں آئی پی پیز (IPPs) کی خریدی شرائط پر عوام کے سخت تحفظات رہے ہیں اور یہ نام بدنام ہو چکا تھا، لیکن اب حکومت بجلی خرید کر اپنے مقررہ ریٹس عوام پر زبردستی مسلط نہیں کرے گی۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اس شفاف اور جدید نظام کا ابتدائی اطلاق صنعتی اور ۱ میگاواٹ سے بڑے صارفین پر ہوگا، جس کے بعد آنے والے سالوں میں ایک مکمل کھلی منڈی (Competitive Electricity Market) تشکیل پائے گی جہاں ایک عام صارف بھی اپنی مرضی کے سپلائر سے بجلی خرید سکے گا۔ وزیرِ توانائی کا کہنا تھا کہ سستی بجلی کی فراہمی سے پاکستانی انڈسٹری کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، جس سے مقامی صنعت عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل ہو کر اپنی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کر سکے گی۔