LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش اقوام متحدہ اجلاس: امریکی صدر کی خلیج تعاون کونسل رکن ممالک سے ملاقاتیں متوقع جنرل اسمبلی اجلاس: امریکا کا فلسطینی صدر اور حکام کو ویزے دینے سے انکار ایران کے جوابی حملے: امریکی فوجی اڈوں، طیاروں، دیگر نقصانات کی تصاویر سامنے آگئیں اماراتی وزیر خارجہ کی امریکی مشیر مسعد بولس سے ملاقات، سٹریٹجک تعلقات پر تبادلہ خیال صدر ٹرمپ کا امریکا میں شرح سود ایک فیصد یااس سے کم کرنے کا مطالبہ معرکہ حق میں عظیم فتح سے پاکستان کو دنیا میں نئی پہچان ملی: احسن اقبال امریکی فیڈرل ریزرو نے بنیادی شرح سود میں اضافہ کردیا

اقوام متحدہ کا مصنوعی ذہانت کے ممکنہ تباہ کن خطرات روکنے کیلئے سخت اقدامات کا مطالبہ

Web Desk

16 September 2026

اقوام متحدہ نے جدید مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ تباہ کن خطرات کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر سخت قانونی اور انتظامی اقدامات کا فوری مطالبہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ سرکردہ اے آئی کمپنیوں کی رضاکارانہ خود نگرانی موجودہ نقصانات سے نمٹنے اور خودکار اے آئی ماڈلز کو انسانی حفاظتی نظام سے باہر نکلنے سے روکنے کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ انہوں نے ایک خط میں واضح کیا کہ زیادہ سے زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز کی دوڑ انسانوں کی زندگی کے ہر شعبے کے لیے سنگین تباہ کن خطرات پیدا کر رہی ہے۔

وولکر ترک نے فرنٹیئر اے آئی کمپنیوں کی میزبانی کرنے والے ممالک—خصوصاً امریکہ اور چین—پر زور دیا کہ وہ ان کمپنیوں کے لیے سنگین واقعات کی رپورٹنگ، صلاحیتوں کی سائنسی تصدیق اور انسانی حقوق سے متعلق جائزہ لازمی قرار دیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک ملک یا کمپنی دنیا کے لیے خطرات کا تعین نہیں کر سکتی، لہٰذا باہمی مسابقت کو ضوابط کی کمی کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے ان خدشات کو مسترد کر دیا کہ حفاظتی اقدامات سے جدت سست ہوتی ہے اور کہا کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ، روزگار کے خاتمے، صحت اور سیکیورٹی سے متعلق فیصلے شفاف انداز میں انسانی حقوق کو مدنظر رکھ کر کیے جانے چاہئیں