LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بین الاقوامی مسافروں کے لیے ڈیجیٹل ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کا پہلا مرحلہ کراچی ایئرپورٹ پر شروع مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے خاتمہ کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں: عاصم افتخار سویڈن پارلیمانی انتخابات، ابتدائی نتائج کے مطابق بائیں بازو کی جماعتیں آگے شمالی کوریا کا اپنے مشرقی ساحل سے سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ روس نے مسافر ٹرین کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا، یوکرینی ریلوے حکام کا دعویٰ ایران کا اقوام متحدہ سے اسرائیلی جرائم کیخلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر مذاکرات آئندہ ماہ اٹلی میں ہوں گے حوثیوں کا یمن کے تعز اور صعدہ کے علاقوں میں سعودی فضائی حملوں کا دعویٰ یمی سرحد سے متصل 2 علاقوں سے حملوں کا خدشہ، سعودی شہریوں کو خبردار کر دیا گیا ایران کے سخت گیر دھڑے نے امریکا کیساتھ جون میں طے پانے والا امن معاہدہ سبوتاژ کیا، امریکی اخبار ایران نے جنگ شروع نہیں کی، امریکی و اسرائیلی جارحیت کیخلاف دفاع پر مجبور ہوا، صدر مسعود پزشکیان ایران کے علاقے سیرک میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئیں، ایرانی میڈیا سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رواں مالی سال کا دوسرا اجلاس آج ہوگا ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان مذاکرات کیلئے آج عمان میں ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا زیلنسکی کا توانائی تنصیبات پر جوابی حملوں کا بیان کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہے، کریملن

ناکہ بندی کے دوران 60 روز میں 100 تجارتی بحری جہاز واپس بھیجے، سینٹ کام

Web Desk

13 September 2026

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کے دوران گزشتہ 60 دنوں کے اندر تقریباً 100 تجارتی بحری جہازوں کا راستہ روکا گیا یا انہیں واپس لوٹنے پر مجبور کیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے بیان میں واضح کیا کہ ناکہ بندی والے علاقے سے کسی بھی جہاز کو امریکی فوج کی صریح اجازت کے بغیر گزرنے کی بالکل اجازت نہیں دی گئی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس فوجی و بحری کارروائی کا بنیادی مقصد ایرانی بندرگاہوں سے ہونے والی بین الاقوامی تجارتی آمدورفت کو مکمل طور پر مفلوج بنانا ہے تاکہ تہران کی مالی آمدنی کے ذرائع کو محدود کیا جا سکے۔ دوسری جانب، عالمی اور دفاعی امور کے ماہرین نے اس امریکی اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایرانی ساحلوں کی یہ بحری ناکہ بندی آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں پہلے سے موجود شدید سیکیورٹی کشیدگی کو مزید گہرا کر رہی ہے۔