LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی محکمہ محنت نے کگنیزنٹ کے لیے نئے گرین کارڈز (پرم) کا پروسیس معطل کر دیا ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا، روبیو امریکی سینٹرل کمانڈ کا 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ایرانی بحریہ کا آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی بغیر پائلٹ آبدوز پکڑنے کا دعویٰ حملوں کا جواب: ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی سعودی کابینہ کا ملکی خود مختاری، قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ ایرانی وزیر خارجہ کی امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید امریکا کی ایران کی 27 فضائی کمپنیوں اور دیگر اداروں پر پابندیاں عائد امریکی صدر کا کینیڈا کے ساتھ تجارتی برابری نہ ہونے پر سخت ردعمل 27 ستمبر کا احتجاج اٹل، فیصلے پر نظر ثانی نہیں کر سکتے: بیرسٹر گوہر مسلم لیگ ن صوبوں کے معاملے پر ایک پیج پر ہے، مریم نواز سپانتک چوٹی پر جاں بحق ڈاکٹر اسما مشتاق کی لاہور میں نماز جنازہ ادا حوثیوں کے سعودیہ پر حملوں میں واضح ایرانی ہاتھ نظر آتا ہے: امریکی وزیر خارجہ برطانیہ سمیت بارہ ممالک کا اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان بلاول بھٹو کا محسن نقوی کے سسٹم فیل ہونے کے بیان پر قومی اسمبلی میں بحث کا مطالبہ

اسرائیلی اشتعال انگیزی سے شروع جنگ کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے: اردوان

Web Desk

7 September 2026

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیزیوں اور جارحانہ اقدامات سے شروع ہونے والی جنگ کا خمیازہ اور قیمت پوری دنیا کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ اپنے اہم بیان میں ترک صدر نے واضح کیا کہ اس لڑائی اور کشیدگی کا بڑا نقصان نہ صرف ایرانی عوام اور خلیجی ممالک کو اٹھانا پڑ رہا ہے بلکہ عالمی معیشت اور خطے کا امن بھی شدید دباؤ میں آ چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کے جھوٹ اور تخریبی کارروائیوں نے تاریخی ‘اسلام آباد معاہدے’ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس نے ایک طویل عرصے بعد خطے میں پائیدار سکون اور توازن پیدا کیا تھا।

ترک صدر نے سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر امن کی ہر ممکن کوشش اور سفارتی امکان کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے والی اسرائیلی حکمرانوں کی انتہا پسندانہ سوچ تبدیل نہ ہوئی تو مشرقِ وسطیٰ کا یہ بحران کبھی ختم نہیں ہو سکے گا۔ رجب طیب اردوان نے تاکید کی کہ خطے میں پائیدار اور پائندہ امن کا قیام صرف انتہا پسندی اور اشتعال انگیز کارروائیوں کے خاتمے، اور تمام فریقین کے مابین باہمی احترام، سنجیدہ مذاکرات اور سفارتی تعاون سے ہی ممکن ہے۔