LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس پر یوکرین کے بڑے ڈرون حملے، ماسکو کی جانب 630 ڈرونز کی پرواز، تین افراد زخمی ٹرمپ کا ہنگاموں کیلئے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا احمقانہ ہے: فرانسیسی صدر پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 3.7 فیصد اور زرمبادلہ ذخائر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے: عالمی بینک رپورٹ ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کی تعیناتی چیلنج: اسلام آباد ہائی کورٹ کا وفاق اور نیب کو نوٹس 12 سال کی بچی کو بلیک میل کرنے پر 2 ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا نئے انتظامی یونٹس اور 28 ویں آئینی ترمیم آذربائیجان کے راستے یورپ جانے کی غیر قانونی کوشش ناکام، 3 مسافر آف لوڈ عمانی سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا پہلا دورہ، شاہ چارلس نے حدیث پڑھ کر سنائی پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے گیارہویں جماعت 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا حنا پرویز بٹ کی باتیں حکومت کیلئے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں: عظمیٰ بخاری صارفین کے ڈیٹا سے متعلق گمراہ کن معلومات، میٹا پر 25 ارب ڈالر جرمانہ عائد وزیراعظم خیبرپختونخوا کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے پشاور پہنچ گئے یومِ فتحِ مظفرآباد آج منایا جا رہا ہے، کشمیریوں کی تاریخی جدوجہد کی یاد تازہ سپریم کورٹ: ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال، فیڈرل سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس 250 پوائنٹس بڑھ گیا

آبنائے ہرمز سے روزانہ 90 لاکھ بیرل تیل گزر رہا ہے، امریکی وزیر توانائی

Web Desk

6 September 2026

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے شدید کشیدگی اور محدود زون کے اعلانات کے باوجود آبنائے ہرمز کے ذریعے روزانہ تقریباً 90 لاکھ بیرل خام تیل کی بین الاقوامی ترسیل کامیابی سے جاری ہے۔ ایک رسمی بیان میں کرس رائٹ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی یہ مسلسل ترسیل عالمی منڈیوں میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دباؤ کم کرنے میں مدد دے رہی ہے، جبکہ اس کے علاوہ خطے میں پائپ لائنز کے متبادل نظام کے ذریعے بھی تیل کی نقل و حمل جاری رکھی گئی ہے۔

امریکی وزیر توانائی نے مزید واضح کیا کہ اس وقت خلیج فارس میں تیل کی محفوظ ترسیل کا بڑا انحصار امریکی بحریہ کی متحرک موجودگی پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی بحری افواج آئل ٹینکرز کو ممکنہ ایرانی بحری و میزائل حملوں اور رکاوٹوں سے بچانے کے لیے مکمل سیکیورٹی اور حفاظتی حصار فراہم کر رہی ہیں تاکہ عالمی سپلائی چین متاثر نہ ہو۔