LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی حکام کا جنگ کے دوران امریکا کے 370 طیاروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو جدید ہتھیار بیچنے کی منظوری دے دی احسن اقبال نے ملک میں 15 نئے صوبوں کی تجویز دیدی لاہور سمیت بڑے شہروں سے میئر کا عہدہ ختم کرنے سے بلدیاتی نظام کمزور ہوگا: سعد رفیق امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر حملے کی دھمکی پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ورلڈ چیرٹی ڈے منایا جارہا ہے سیالکوٹ: مسلح ڈاکو گھر سے ساڑھے 3 کروڑ روپے کا سونا، سعودی ریال اور نقدی لے اڑے امریکا کی ایران کی مالی معاونت کرنیوالے عالمی مالیاتی اداروں کو سنگین نتائج کی دھمکی صدر سے بلاول بھٹو کی طویل ملاقات، سندھ کی تقسیم پر پارٹی مؤقف پر ڈٹنے رہنے کا فیصلہ کراچی ڈیفنس تشدد کیس: انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی فدا جانوری ذمہ دار قرار، مقدمہ درج کرنے اور معطلی کی سفارش ایران جنگ کے 6 ماہ بعد مزید پراعتماد ہوگیا: امریکی اخبار بائیں بازو کے انتہا پسند، کمیونسٹ امریکا کی شکست چاہتے ہیں: ٹرمپ میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر اسحاق ڈار سے یوگنڈا کے سابق وزیراعظم کی ملاقات، عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال روس کا یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملہ، 5 افراد زخمی

بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، کشمیر کیلئے سزائے موت بھی قبول ہے: یاسین ملک

Web Desk

3 September 2026

حریت رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سری نگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی حلف نامہ جمع کرا دیا ہے، جس میں انہوں نے اپنا مقدمہ مزید لڑنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ یاسین ملک کا کہنا ہے کہ وہ اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں، کیونکہ بھارتی حکومت 36 سال بعد ایک من گھڑت اور جھوٹے مقدمے میں ملوث کر کے انہیں سزائے موت دینے کا منصوبہ بنا چکی ہے۔ اپنے حلف نامے میں انہوں نے 1990ء کے سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث ہونے کے الزامات کی سخت تردید کی اور واضح کیا کہ واقعے سے 11 روز قبل شدید زخمی ہونے کے باعث ان کے لیے کسی قسم کی منصوبہ بندی یا ہدایت دینا ممکن ہی نہیں تھا۔ یاسین ملک نے مؤقف اپنایا کہ سیاسی انتقام اور عدالتی ناانصافی کے خلاف احتجاج کے طور پر انہوں نے مقدمہ نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، اور عدالتی سزا قبول کرنے کا مقصد ہرگز اپنے اوپر لگائے گئے جھوٹے الزامات کو تسلیم کرنا نہیں ہے۔