LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
قائمہ کمیٹی کا بیوروکریسی کی ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار، سی ڈی اے اور ڈی جی ہیلتھ کی کارکردگی پر برہمی سندھ کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر الارم اور واٹر سپرنکلرز نہ ہونے کا انکشاف خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی پاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی: خواجہ آصف نیویارک: واشنگٹن اسکوائر پارک میں میئر زوہراں ممدانی سے مشابہت رکھنے والوں کے مقابلے میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز اے آئی اگلے سال ‘سُپر ہیومن’ بن کر انسانوں پر حاوی ہو جائے گی: ایلون مسک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ترکیہ کے یوم فتح کے موقع پر پاک ترک دوستی کے نام خصوصی نغمہ جاری مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سہ ملکی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا

خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

Web Desk

31 August 2026

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے خلع، حق مہر، اور بیوی کے نام گھر کی ملکیت سے متعلق ایک اہم اور معرکہ الآرا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خلع کی صورت میں شوہر صرف اسی حق مہر یا مال کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے جو اس نے خود ادا کیا ہو۔ اگر حق مہر میں دیا گیا سونا یا جائیداد بیوی کے والد کی رقم سے خریدی گئی ہو اور شوہر اپنی ادائیگی ثابت نہ کر سکے تو اسے واپسی کا کوئی حق نہیں۔

جسٹس راحیل کامران شیخ نے ڈاکٹر رخسانہ کوثر اور شاہد نذیر کے درمیان خاندانی تنازع کا فیصلہ سناتے ہوئے خاتون کی درخواست جزوی طور پر منظور کر لی اور ماتحت عدالت کا 11 تولے سونا شوہر کو واپس کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ محض نکاح نامے میں حق مہر کی رقم یا زیورات درج ہونے کی بنیاد پر شوہر کو واپسی کا حقدار نہیں ٹھہرایا جا سکتا جب تک کہ وہ اپنی جانب سے ادائیگی کا قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہ کرے۔

عدالت نے شوہر کی جانب سے نابالغ بچے کے نان نفقہ کے معاملے پر کم آمدن ظاہر کرنے اور دوسری جانب لاکھوں روپے کی جائیداد کا مالک بننے کے متضاد مؤقف پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ بچے کی کفالت والد کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے جس سے وہ اپنی آمدن چھپا کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں، بینک ریکارڈ کی روشنی میں خاتون کی جانب سے اپنے والد کو گھر کی ملکیت (تملیک) منتقل کرنے کو بھی مکمل طور پر قانونی قرار دیا گیا، تاہم 22 تولے دیگر زیورات اور زچگی کے اخراجات کے دعوے عدم ثبوت کی بنا پر مسترد رکھے۔