LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال کا 2280 ارب روپے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا لبنان، حزب اللہ، اسرائیل سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی کی توقع رکھتے ہیں: ٹرمپ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ آج سوئٹرز لینڈ میں شروع ہوگا امریکا؛ سپریم کورٹ نے’چرسیوں‘ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیدی امریکی فوج نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کردی مغرب میں جمہوریت اور مشرق میں کمیونزم ناکام، حل اسلامی نظام میں ہے: مولانا فضل الرحمٰن وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا تاریخی ٹیلیفونک رابطہ وزیراعظم نے کفایت شعاری اقدامات میں توسیع کی منظوری دے دی فیلڈ مارشل سے گھانا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف کی ملاقات، عسکری تعاون بڑھانے پر اتفاق وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کردیا سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی درخواست سننے والا سنگل بنچ تحلیل اسحاق ڈار سے بحرینی ہم منصب کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال جنگ سے بہتر بات چیت ہوتی ہے: بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات امریکا ایران مفاہمت کا خیر مقدم، پاکستان نے تاریخی کردار ادا کیا: صدر آصف زرداری

ڈکی بھائی کے اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز سپرداری کی درخواست پر رپورٹ طلب

Web Desk

12 December 2025

ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری کی درخواست پر این سی سی آئی اے نے عدالت سے ایک بار پھر رپورٹ جمع کروانے کے لیے مہلت مانگ لی، عدالت نے ادارے کو 15 دسمبر تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے ڈکی بھائی کی جانب سے دائر سپرداری درخواست پر سماعت کی، سماعت کے دوران این سی سی آئی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی افسر اسلام آباد میں موجود ہیں اور کیس کی فائل بھی ابھی تک واپس نہیں کی گئی۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شعیب ریاض نے تاحال فائل واپس نہیں کی، عدالت نے وکیل ڈکی بھائی سے استفسار کیا کہ ان کے کلائنٹ یوٹیوب کس طرح استعمال کرتے ہیں؟جس پر وکیل نے جواب دیا کہ  سر، مین اکاؤنٹ این سی سی آئی اے کے پاس ہے یہ جو اکاؤنٹ ہے وہ ایڈیٹر اکاؤنٹ تھا۔ وکیل ڈکی بھائی نے مؤقف اپنایا کہ یہ سپرداری کی درخواست ہے اور تمام الیکٹرانک ڈیوائسز اور موبائل این سی سی آئی اے کے پاس ہیں، اس لیے ان کے کلائنٹ کے چار کریڈٹ کارڈز اور رقم بھی ان کے حوالے کی جائے۔عدالت نے این سی سی آئی اے کی جانب کی گئی مہلت کی استدعا منظور کرلی، عدالت نے این سی سی آئی اے کو پندرہ دسمبر تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔