LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ملاقات، علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ایرانی فوج کا طویل جنگ کیلئے مکمل تیاری اور پیشگی کارروائیوں کا اعلان ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں پاکستانی فوجی دستوں کی موجودگی کی تصدیق اسلام آباد پر لشکر کشی کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، تمام وسائل بروئے کار لائیں گے: خواجہ آصف 7 اکتوبر کے طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کو شکست دی: حافظ نعیم الرحمان بیلاروسی وفد کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات محسن نقوی، طلال چوہدری سے برطانوی وزیر مملکت خارجہ امور سٹیفن ڈوٹی کی ملاقات صومالی بحری قزاقوں سے بازیاب تین پاکستانی کراچی پہنچ گئے ایران افزودگی کے حق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا، ایرانی عہدیدار عالمی مسائل کے حل کیلئے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کا کردار مزید اہم ہو گیا: اسحاق ڈار سینیٹر فاروق ایچ نائیک جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے مستعفی ہمسایہ ممالک سے مذاکرات جاری، دشمن کو مایوس کرینگے: مسعود پزشکیان ایرانی اسپیکر کا داخلی سکیورٹی اور معاشی استحکام مزید مضبوط بنانے پر زور حکومت اسلام آباد میں کسی بھی صورت چڑھائی نہیں ہونے دے گی: طارق فضل چودھری فیلڈ مارشل سے انتونیو گوتریس کی ملاقات: سکیورٹی، کشمیر اور سندھ طاس معاہدے پر تبادلہ خیال

بلوچستان کے مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونے چاہئیں، وسائل پر پہلا حق عوام کا ہے: وزیراعظم

Web Desk

21 August 2026

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے تاکید کی ہے کہ بلوچستان کو درپیش تمام درپیش چیلنجز اور مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات (ڈائیلاگ) کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے، کیونکہ صوبے کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے غیور عوام کا ہے۔

بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچ اور پشتون اقوام پر مشتمل بلوچستان کی تاریخ دلیری، مہمان نوازی اور عظیم روایات سے مزین ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت بلوچ عمائدین نے دل کی آواز پر ملک کے ساتھ الحاق کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسائل کی آڑ میں کسی بھی شخص کو ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ ہی شناختی بنیادوں پر معصوم شہریوں یا مزدوروں کا قتلِ عام جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم نے اعلان کیا کہ جو کچھ ماضی میں ہو گیا اسے پیچھے چھوڑ کر اب ایک ‘گرینڈ ڈائیلاگ’ کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اگر بلوچستان کے بیٹے اور بیٹیاں اپنا راستہ درست کر کے قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ریاست انہیں خوش آمدید کہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے اور وہ اپنے بچوں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی، اسی لیے حکومت بلوچ عوام کے جائز شکوک و شبہات اور مسائل کو ایک بار نہیں بلکہ ہزار بار سننے کے لیے تیار ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ دشمن ممالک کی سرپرستی میں جاری دہشت گردی اور گھس بیٹھیوں کا مقابلہ ہمارے سیکورٹی شہداء اپنی جانیں قربان کر کے کر رہے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ فیلڈ مارشل کے ساتھ مل کر ‘خون کی سڑک’ کو امن اور ترقی کی شاہراہ میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک بلوچستان اور دیگر صوبے مساوی طور پر ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گے، تب تک پاکستان کی مکمل ترقی ممکن نہیں ہے۔