LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم ایران کی جانب سے خطرات، رکن ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں: نیٹو

جنگ کے دوران امریکا نے مذاکرات کی درخواست کی: ایرانی وزیر خارجہ

Web Desk

19 August 2026

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ جنگ اور کشیدگی کے دوران امریکہ نے خود ایران سے مذاکرات کی باقاعدہ درخواست کی تھی، جس پر صدر مسعود پزشکیان نے امریکی تجاویز کو سنجیدگی سے لینے اور سفارتکاری کے ذریعے جنگ کو خاتمے کی جانب لے جانے کا ہدایت کی تھی۔

اپنے ایک تفصیلی بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ صدر مسعود پزشکیان کی خصوصی تجویز اور ہدایات پر ہی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کو اہم مذاکراتی ٹیم کی قیادت کے لیے منتخب کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے بین الاقوامی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو واضح پیغام پہنچایا کہ وہ کسی عارضی وقفے کے بجائے مکمل اور مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں۔ عباس عراقچی کے مطابق دشمن ایران کو سرنڈر کرانے، حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج)، ملک کی تقسیم اور اندرونی بدامنی پھیلانے میں مکمل ناکام رہا اور اس کا ہر منصوبہ ناکامی سے دوچار ہوا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ نے صدر مسعود پزشکیان کی علاقائی اور نرم سفارتکاری (Soft Diplomacy) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ 40 روزہ جنگ کے دوران نہ صرف اندرونی طور پر بلکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ صدر پزشکیان نے کردی زبان میں گفتگو کر کے عراقی کردستان کے عوام کا اعتماد جیتا۔

عباس عراقچی نے مزید بتایا کہ 40 روزہ جنگ کے دوران ایران اور آذربائیجان کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ تاہم، صدر مسعود پزشکیان نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور گفتگو کے دوران روایتی آذری کہاوتوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی اور کشیدگی کو فوراً ختم کر دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان مشکل حالات میں صدر کی سفارتی بصیرت نے ملک کے لیے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔