ہسپتال بنا کر علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں، انسانوں کو بیماریوں سے بچانا حقیقی صحت ہے۔وفاقی وزیر صحت
Web Desk
31 July 2026
ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی’ میں نرسنگ اینڈ الائیڈ سائینسسز ڈیپارٹمنٹ کے افتتاح کے بعد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت ایس مصطفی کمال ک کہنا تھا کہ اسپتال بنا کر مریضوں کا علاج کرنا ہیلتھ کیئر نہیں ہے، بلکہ ہیلتھ کیئر کا اصل مقصد انسانوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں 68 فیصد بچے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے باعث غیر محفوظ ہیں جبکہ سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرنے کا ملک میں کوئی مؤثر حل موجود نہیں ہے۔ ہیلتھ کیئر کی شروعات بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے اور بنیادی 13 حفاظتی ٹیکے لگانے سے ہوتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مایوس کن اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی اور بم دھماکوں میں ہونے والے جانی نقصان پر سب افسردہ ہوتے ہیں، لیکن ملک میں سالانہ 11 ہزار ماؤں کی دورانِ زچگی وفات اور 4 لاکھ بچوں کی مختلف بیماریوں سے موت پر وہ سنجیدگی نظر نہیں آتی، حالانکہ ان میں سے اکثر اموات قابلِ علاج اور قابلِ بچاؤ ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک میں 1 کروڑ 10 لاکھ لوگ ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہیں، ہر تیسرا شخص ذیابیطس کا شکار ہے، اور ہر ایک منٹ میں ایک شخص دل کے عارضے کی وجہ سے جان کی بازی ہار رہا ہے انہوں نے کہا کہ این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ جب این ایف سی میں 82 فیصد حصہ آبادی کی بنیاد پر دیا جائے گا تو کوئی بھی صوبہ اپنی آبادی کم کرنے کی کوشش کیوں کرے گا؟ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ہمسایہ ملک میں آبادی کا یہ حصہ صرف 18 فیصد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک کونسلر سے لے کر وزیر اعظم تک سب ایک پیج پر ہو کر کام نہیں کریں گے، صحت کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ ادویات کی قیمتوں پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے وضاحت کی کہ دواؤں کی قیمتیں کم یا زیادہ کرنا وفاقی وزیر کا کام نہیں ہوتا، بلکہ یہ کابینہ کی تشکیل کردہ کمیٹی اور ‘ڈریپ’ (DRAP) کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ پاکستان میں ڈریپ نے کچھ ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خام مال (API) چین سے امپورٹ کرتے ہیں، اور اس سلسلے میں حال ہی میں اسلام آباد میں B2B کانفرنس کے دوران 659 ملین ڈالر کے معاہدے کیے گئے ہیں تاکہ خام مال منگوا کر ادویات پاکستان میں ہی تیار کی جا سکیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کی جانب سے نئے صوبے بنانے کی تجاویز اور بات کی مکمل تائید کرتے ہیں ۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے سے ملک بھر کے ساتھ ساتھ کراچی جیسے بڑے شہر کے مسائل بھی حل ہوں گے۔
متعلقہ عنوانات
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار
28 October 2026
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع
28 October 2026
روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی
28 October 2026
مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی
28 October 2026
حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ
28 October 2026
روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط
28 October 2026
گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا
28 October 2026
ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان
28 October 2026