LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کی جانب سے آنے والے ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کردیا: کویت انصار اللہ کا سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سیریک، اہواز اور بوشہر میں دھماکے سنے گئے ہیں، ایرانی میڈیا امریکی فوج نے ایران پر مزید شدید فضائی حملے شروع کر دیے امریکا نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کا دعویٰ مسترد کر دیا امریکی ایوان نمائندگان میں قومی دفاعی اختیارات سے متعلق بل کثرت رائے سے منظور یورپ جارحیت کی پیروی کی بجائے سفارتکاری میں قائدانہ کردار ادا کرے، کاظم غریب آبادی یمنی حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کی تیاریاں مکمل کر لیں ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، عراقچی پیپلزپارٹی نے سعد رفیق کا بیان غیر ذمہ دارانہ، قومی یکجہتی کیخلاف قرار دیدیا امریکا نے کوئی غلطی کی تو نتائج عالمی معیشت کو بھی متاثر کریں گے، علی اکبر ولایتی دشمن ایرانی میزائلوں کی تیاری کے مراکز سے لاعلم ہے: بریگیڈیئر جنرل شکارچی حماس کا عوامی تکالیف ختم ہونے تک غزہ میں کام جاری رکھنے کا اعلان ترکیہ کے صوبہ موغلا کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی، وسیع رقبہ متاثر مشرق وسطیٰ میں کارروائیاں: بلغاریہ نے امریکی فوج کو فضائی اڈا استعمال کرنیکی اجازت دیدی

امریکی ایوان نمائندگان میں قومی دفاعی اختیارات سے متعلق بل کثرت رائے سے منظور

Web Desk

22 July 2026

امریکی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) نے ملک کے قومی دفاعی اختیارات سے متعلق اہم ترین بل (NDAA) کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔

اس قانون سازی کے تحت ریکارڈ 1.15 ٹریلین ڈالر کے بھاری بھرکم دفاعی اخراجات کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ منظور شدہ بل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان گہری کشیدگی اور جنگی صورتحال برقرار ہے۔

ایوان میں بل کی منظوری کے وقت شدید مقابلے کا رجحان دیکھا گیا جہاں بل کے حق میں 216 جبکہ مخالفت میں 212 ووٹ آئے۔ اس دفاعی بل کی ایک اور انتہائی اہم اور حساس شق امریکہ اور اسرائیلی مسلح افواج کے درمیان باہمی دفاعی تعاون، مواصلات اور عسکری انضمام (Military Integration) کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے سے متعلق ہے۔

ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد قومی دفاعی اختیارات کا یہ اہم اور جامع بل حتمی منظوری اور رائے شماری کے لیے اب امریکی سینیٹ کو بھیج دیا گیا ہے جہاں اس پر غور و خوض کیا جائے گا۔