LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغان طالبان رجیم کے 8 ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل، تمام مار گرائے وزیراعظم کی بوسنیا کے صدارتی کونسل کے چیئرمین سے ملاقات، عالمی امور پر تبادلہ خیال وزیراعظم کی عالمی رہنماؤں، بل گیٹس سے ملاقاتیں، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکر سے ملاقات محسن نقوی کی سربراہ پاسداران انقلاب سے ملاقات، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو آبنائے ہرمز میں جہازوں کیلئے نئی پابندی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ مقرر مسلسل اصلاحات اور مضبوط ذخائرپاکستان کے معاشی منظر نامےکو سہارا دے رہے ہیں: اے ڈی بی او آئی سی مسئلہ کشمیر کو عالمی ایجنڈے پر سرفہرست رکھے: اسحاق ڈار پاکستان اور سعودی عرب: بھائی چارے سے بالاتر ایک اتحاد، 96 واں سعودی قومی دن پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب حکومت کی فوج و رینجرز کی تعیناتی کی درخواست پنجاب بھر میں انٹرمیڈیٹ پارٹ ٹو کے سالانہ امتحانات کے نتائج جاری ایران نے اپنا مؤقف اور شرائط امریکا تک پہنچا دیں: اسماعیل بقائی سعودی قومی دن پر صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کی شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کو مبارکباد اقتصادی جائزہ مذاکرات کیلئے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا علم اور اخلاق جارح دشمن کا ہاتھ کاٹ سکتے ہیں، ایرانی سپریم لیڈر

امریکا کی مسلسل نویں رات ایران پر بمباری، کئی شہروں میں دھماکے

Web Desk

20 July 2026

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکی صدر کی ہدایت پر مسلسل 9ویں رات ایران کے خلاف فضائی حملوں کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ سینٹکام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان شدید حملوں میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے عسکری کمانڈ سینٹرز، ایئر ڈیفنس سسٹمز، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری صلاحیتوں، مواصلاتی نیٹ ورکس اور میزائل و ڈرون لانچ سائٹس کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا جا سکے۔ دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تبریز، صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک، چابہار، کنارک اور بوشہر کے شہر خورموج سے شدید دھماکوں اور آتش زدگی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تبریز میں 3 بڑے دھماکے سنے گئے جہاں مبینہ طور پر میزائل اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بوشہر میں پاسدارانِ انقلاب کے عسکری اڈے پر بمباری کی گئی۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فورسز مکمل چوکسی کے ساتھ ہر ممکنہ ردِعمل کے لیے تیار ہیں۔