LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایبٹ آباد: بیکری میں آگ لگنے سے جھلسنے والے 3 مزدور دم توڑ گئے یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی ٹرمپ سے متفق ہوں کہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے: عباس عراقچی کوئٹہ اور نوشکی میں فائرنگ سے قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق کوہاٹ میں طوفانی بارش سے مکان کی چھت گر گئی، 9 افراد جاں بحق فیصل آباد میں گندے نالے میں گر کر 8 سالہ بچہ جاں بحق وزیراعظم سے سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کی ملاقات، مسلم دنیا کے مسائل پر تبادلہ خیال ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت کا معاملہ وفاق تک پہنچ گیا، تحقیقات کا حکم ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں شہدا کی تعداد 24 ہوگئی ایران کا ایک ارب ڈالر مالیت کا خام تیل چین روانہ، ایرانی آئل ٹینکروں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، پلیٹس ڈیٹا عوامی کرنے کی سفارش پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق

خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی

Web Desk

13 July 2026

کویت کی حکومت نے نجی شعبے میں مالیاتی شفافیت کو فروغ دینے اور غیر قانونی لین دین کے تدارک کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ تجارت اور صنعت کے جاری کردہ نئے ضوابط کے تحت، نجی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے تمام اداروں پر 10 کویتی دینار (KD 10) سے زیادہ کی نقد (کیش) ادائیگی قبول کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد نجی طبی شعبے میں زیادہ سے زیادہ مالی لین دین کو منظور شدہ بینکنگ چینلز اور الیکٹرانک ادائیگی کے محفوظ نظام (ڈیجیٹل پیمنٹ) کے دائرہ کار میں لانا ہے۔

حکومتی احکامات کے مطابق، وزارتی قرارداد نمبر 110 برائے 2026 کا اطلاق وزارتِ صحت سے لائسنس یافتہ تمام نجی طبی سہولیات پر فوری طور پر ہوگا۔ اس دائرہ کار میں نجی ہسپتال، طبی مراکز، کلینکس، ہوم ہیلتھ کیئر (گھریلو صحت کی دیکھ بھال) فراہم کرنے والے ادارے اور دیگر تمام لائسنس یافتہ برانچز شامل ہوں گی۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ نئے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں اور مالکان کو 1979 کے فرمان قانون نمبر 10 کے تحت سخت ترین سزاؤں اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کسی بھی دوسری قانونی کارروائی کے علاوہ، خلاف ورزی کے مرتکب طبی اداروں کو فوری طور پر سیل (بند) کر دیا جائے گا اور ان کے کیسز مزید سخت کارروائی کے لیے مجاز تفتیشی و عدالتی حکام کو بھیجے جائیں گے۔