LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر مزید شدید حملوں کا اعلان یورپی یونین کا غزہ کی بحالی کیلیے ایک ارب ڈالر فنڈ کا اعلان خلیجی ملک نے نقد ادائیگیوں سے متعلق بڑی پابندی لگا دی ٹرمپ سے متفق ہوں کہ جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے پر معاوضہ ملنا چاہیے: عباس عراقچی کوئٹہ اور نوشکی میں فائرنگ سے قبائلی رہنما سمیت 3 افراد جاں بحق کوہاٹ میں طوفانی بارش سے مکان کی چھت گر گئی، 9 افراد جاں بحق فیصل آباد میں گندے نالے میں گر کر 8 سالہ بچہ جاں بحق وزیراعظم سے سیکرٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ کی ملاقات، مسلم دنیا کے مسائل پر تبادلہ خیال ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم میں مچھلیوں کی ہلاکت کا معاملہ وفاق تک پہنچ گیا، تحقیقات کا حکم ایران میں حالیہ امریکی حملوں میں شہدا کی تعداد 24 ہوگئی ایران کا ایک ارب ڈالر مالیت کا خام تیل چین روانہ، ایرانی آئل ٹینکروں نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا پٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات، پلیٹس ڈیٹا عوامی کرنے کی سفارش پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق یمن نے صنعاء ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ملک کے تمام ہوائی اڈے بند کردیئے

برطانیہ نےایرانی پاسداران انقلاب فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

Web Desk

13 July 2026

برطانوی حکومت نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے خلاف ایک بڑا اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے اسے باقاعدہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دینے اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق، یہ اقدام غیر ملکی ریاستوں کی سرپرستی میں ہونے والی تخریب کار سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے متعارف کرائی جانے والی ہنگامی قانون سازی کے تحت کیا جا رہا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ساتھ ‘اسلامک موومنٹ آف کمپینینز آف دی رائٹ’ اور روس سے منسلک ‘جی آر یو والنٹیئر کور’ کو بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اگر برطانوی پارلیمنٹ نے رواں ہفتے کے اختتام تک اس فیصلے کی منظوری دے دی، تو ان تنظیموں کی جانب سے آتش زنی اور تخریب کاری میں ملوث افراد کو عمر قید تک کی سزا سنائی جا سکے گی۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس فیصلے پر سخت موقف اپنائے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسی بھی ایسی غیر ملکی قوت کو برطانیہ میں سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گی جو ملک میں خوف، تشدد یا تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ اپنی سرزمین کو ایسی کارروائیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دے گا۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق، نئی قانون سازی سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اضافی اختیارات حاصل ہوں گے، اور ان تنظیموں کی کسی بھی قسم کی مالی یا اخلاقی حمایت و معاونت کو سنگین جرم تصور کیا جائے گا، جس پر 14 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔ برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود اور وزیرِ خارجہ یویٹ کوپر نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تنظیموں کے لیے کام کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ملکی سلامتی و شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ واضح رہے کہ برطانیہ اس سے قبل بھی ایران سے منسلک 550 سے زائد افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر چکا ہے۔