LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دھماکوں کی اطلاعات غلط ہیں، آواز فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کی تھی: ایرانی میڈیا ایران کیساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہیں: امریکی حکام کا دعویٰ ارجنٹینا فٹبال ایسوسی ایشن پر امریکا میں منی لانڈرنگ کے الزامات، تحقیقات شروع بھارت اور اسرائیل پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے، راناثنااللہ چین میں جوتے کی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک زرمبادلہ ذخائر میں بڑا اضافہ، 5 سال بعد 24 ارب ڈالر کی سطح کو چھولیا ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی شرح نمو کا تخمینہ 3.7 فیصد تک گھٹا دیا کارگو طیارہ حادثہ، عملے کے 5 ارکان، بلیک باکس کو تلاش نہ کیا جا سکا امریکا نے گزشتہ چند گھنٹوں میں ایران میں کوئی کارروائی کی نہ فضائی حملے کئے: دفاعی حکام ایران پر حالیہ حملوں کے پیچھے یقینی طور پر اسرائیل ہے: ڈین گریزیئر ایرانی فضائی دفاعی نظام نے امریکی ایم کیو نائن ڈرون تباہ کر دیا، پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں غیر ملکی طاقتوں کا کوئی حق یا کردار نہیں: ایرانی پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت ایران کے مقررہ راستوں کے ذریعے ناممکن ہے: سینٹ کام ایرانی فوج کا ایک بار پھر علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا اعلان فیفا ورلڈ کپ: فرانس مراکش کو 2 صفر سے شکست دیکر سیمی فائنل میں پہنچ گیا

شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپرد خاک کر دیا گیا

Web Desk

9 July 2026

ایران کے شہید سپریم لیڈر اور رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کو تہران، قم، نجف اور کربلا میں الوداعی تعزیتی جلوسوں کے بعد مقدس شہر مشہد میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک کے احاطے میں انتہائی عقیدت و احترام اور آشکبار آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔ شہید رہبرِ اعلیٰ کی آخری نمازِ جنازہ مشہد میں ان کے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی۔ اس تاریخی اور الوداعی موقع پر اپنے محبوب قائد کو آخری بار دیکھنے اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مشہد کی تمام بڑی شاہراہوں اور سڑکوں پر سوگواروں اور زائرین کا ایک بے کراں سمندر امڈ آیا، جس کی وجہ سے شہر کا پورا نظام نوحہ و بکا کی فضا میں گم رہا۔

مشہد لائے جانے سے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی عراق منتقل کیا گیا تھا، جہاں انہیں اسلامی تاریخ کے مقدس ترین مقامات کا الوداعی سفر کرایا گیا۔ ان کی میت کو کربلا معلیٰ میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت غازی عباس علمدار علیہ السلام کے روضہ ہائے مبارک پر لے جایا گیا، جہاں الوداعی مراسم اور نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ عراقی حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، نجف اور کربلا میں نکالے گئے تعزیتی جلوسوں میں ایک کروڑ سے زائد سوگواروں نے شرکت کی، جو کہ تاریخ کا ایک بڑا اجتماع ہے۔ یاد رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہوئے تھے، جن کی تدفین کے ساتھ ہی ایران کے ایک طویل تاریخی باب کا اختتام ہو گیا ہے۔