LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
4 ارب کی عدم ریکوری، خریداریوں میں ڈھائی ارب کی بےضابطگیاں، آڈٹ رپورٹ جاری اقوام متحدہ میں پاکستان کا جنسی تشدد کے خاتمے کیلیے عالمی اقدامات کا مطالبہ سابق افغان کرکٹر شاپور زدران کا جسدِ خاکی بھارت سے کابل پہنچ گیا، ساتھی کرکٹرز اشکبار امریکا کی جانب سے پابندیوں میں چھوٹ ختم، ایران کا 6 کروڑ 30 لاکھ بیرل خام تیل سمندر میں پھنس گیا امریکا نے ایران پر حملے جوابی کارروائی میں کئے: سابق عہدیدار پینٹاگون امریکی صدر ایران کیخلاف حملوں کو محدود رکھنے کی کوشش کررہے ہیں: عالمی میڈیا امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی ایران کیساتھ دوبارہ جنگی کارروائیوں پر شدید تنقید چین کے بحرالکاہل میں بیلسٹک میزائل تجربے، امریکہ کا اظہارِ تشویش غیر ملکی فوج ایرانی ساحل پر اتری تو علاقہ ان کیلئے جہنم بنا دیں گے: ایرانی بحریہ خطےمیں کشیدگی کا ذمہ دار واشنگٹن ہے: علی اکبر ولایتی مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی آج 59 برسی منائی جارہی ہے بحری جہازوں پر حملوں کے ردعمل میں ایران پر حملےکیے، نتائج سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ را ٹرمپ ریڈ کارڈ معطلی کا معاملہ، یورپی ارکانِ پارلیمنٹ کا سربراہ فیفا کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ اسرائیل کا عرب لیگ کے نئے سیکرٹری جنرل کو, رام اللہ کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملے، مزید 2 افراد جاں بحق ہوگئے

مادر ملت فاطمہ جناحؒ کی آج 59 برسی منائی جارہی ہے

Web Desk

8 July 2026

تحریکِ قیامِ پاکستان میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا دستِ بازو رہنے والی ان کی ہمشیرہ، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ کی 59 ویں برسی آج ملک بھر میں انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے، اور قوم ان کی لازوال قربانیوں کو بھرپور انداز میں یاد کر رہی ہے۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ 31 جولائی 1893 کو پیدا ہوئیں اور پیشے کے اعتبار سے ایک ڈینٹل سرجن تھیں، مگر انہوں نے اپنی آرام دہ زندگی اور پیشہ ورانہ کیریئر کو خیرباد کہہ کر خود کو پاکستان کے قیام، مسلم امہ کی بیداری اور عوامی خدمت کے عظیم مقصد کے لیے مکمل طور پر وقف کر دیا۔ انہوں نے تحریکِ پاکستان کے کٹھن سفر میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کے شانہ بشانہ کام کیا اور برصغیر کی مسلم خواتین کو منظم کر کے انہیں آزادی کی جدوجہد میں ایک مؤثر اور متحرک کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا، ان کی انہی بے مثال اور تاریخی خدمات کے اعتراف میں پوری قوم نے انہیں عقیدت سے ’’مادرِ ملت‘‘ یعنی قوم کی ماں کا غیور خطاب دیا۔

قیامِ پاکستان کے تاریخی معرکے کے بعد بھی محترمہ فاطمہ جناحؒ نے آرام سے بیٹھنے کے بجائے قومی تعمیرِ نو، مہاجرین کی آباد کاری، خواتین کی فلاح و بہبود اور ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے نمایاں اور جرات مندانہ کردار ادا کیا۔ وہ ہمیشہ عوامی حقوق، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی ایک مضبوط اور بے باک آواز بن کر ابھریں، یہی وجہ ہے کہ انہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ کی بااثر ترین اور نڈر ترین خواتین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ 9 جولائی 1967ء کو 73 برس کی عمر میں کراچی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر مردہ حالت میں پائی گئیں، اور بعد ازاں انہیں قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے احاطے میں ہی سپردِ خاک کیا گیا۔ آج ان کی برسی کے موقع پر پوری پاکستانی قوم ان کی ملکی و قومی خدمات پر انہیں خراجِ عقیدت اور سلام پیش کر رہی ہے۔