LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
روس کا یوکرین میں ڈرون حملہ، 15 افراد ہلاک، 130 سے زائد زخمی امریکا اور امارات کا ملٹری آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان ایرانی مسلح افواج کا کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن، مؤثر اور تباہ کن جواب دینے کا اعلان معاشی دباؤ ایران کو معاہدے کی طرف آنے پر مجبور کرے گا: جے ڈی وینس شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل، باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق ایران کا دباؤ کے سامنے نہ جھکنے اور دشمن سے آخری سانس تک لڑنے کا عزم بانی پی ٹی آئی کا معائنہ ماہر ڈاکٹرز نے کیا، طبی رپورٹ جاری نہیں کرسکتے: پمز اعلامیہ لاہور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی سے لاکھوں روپے کی ادویات چوری پکڑی گئی الحمدللہ !عمران خان مکمل صحت مند اور فٹ ہیں: ڈاکٹر عظمیٰ خان حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا پٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو دھرنا ختم نہیں کریں گے: حافظ نعیم الرحمان متحدہ اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں مشترکہ کردار ادا کرنے کا اعلان اسحاق ڈار سے ملائیشیا کے وزیر داخلہ کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال پاکستان سمیت 12 ممالک کی شمال مغربی شام میں اسرائیلی فضائی حملے کی شدید مذمت غزہ فلوٹیلا پر حملہ، ترکیہ نے نیتن یاہو کے عالمی گرفتاری وارنٹ جاری کر دیئے

الزائمر سے تحفظ کے لیے اومیگا تھری سپلیمنٹس بے اثر قرار

Web Desk

29 June 2026

کالی فورنیا: ایک جدید اور جامع طبی تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ اومیگا تھری فش آئل (Omega-3 Fish Oil) یا الجی (Algae) سے تیار کردہ مشہورِ زمانہ سپلیمنٹس الزائمر (Alzheimer’s)، ڈیمنشیا (Dementia) یا بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت میں ہونے والی کمی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔

اس اہم سائنسی ریسرچ کے سربراہ اور یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (USC) کے نامور ماہرِ اعصاب (Neurologist) ڈاکٹر حسین یاسین کے مطابق، کیے گئے ایک منظم کلینیکل ٹرائل کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اومیگا تھری کے مصنوعی سپلیمنٹس باقاعدگی سے استعمال کرنے والے افراد کی یادداشت، عمومی دماغی صلاحیت (Cognitive Function) یا دماغی خلیات کے تحفظ میں کوئی بھی واضح اور نمایاں مروجہ بہتری دیکھنے میں نہیں آئی۔

ڈاکٹر حسین یاسین نے تحقیق کے تزویراتی نتائج پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو صرف مصنوعی سپلیمنٹس پر انحصار کرنے کے بجائے ایک پائیدار اور صحت مند طرزِ زندگی (Healthy Lifestyle) اپنانا چاہیے، جو دماغی امراض کے خلاف زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے بہتر دماغی صحت کے لیے درج ذیل مصلحانہ اقدامات اور قدرتی ذرائع تجویز کیے ہیں:

  • طرزِ زندگی میں تبدیلیاں: روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ ورزش، ذہنی دباؤ (Stress) میں ہر ممکن کمی اور رات کی معیاری و پرسکون نیند۔

  • غذائی عادات: پودوں پر مبنی متوازن غذا (Plant-based Diet) کا استعمال۔

  • اومیگا تھری کے قدرتی ذرائع: سپلیمنٹس کی جگہ اومیگا تھری سے بھرپور قدرتی اشیاء جیسے چکنائی والی مچھلی (Fatty Fish)، خشک میوہ جات (Nuts) اور مختلف غذائی بیجوں (Seeds) کو روزمرہ خوراک کا حصہ بنانا۔

انہوں نے بین الاقوامی طرزِ زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے مزید واضح کیا کہ بحیرہ روم کے خطے (Mediterranean Region) کے لوگوں میں دیکھی جانے والی بہتر دماغی صحت اور طویل عمری کا تعلق صرف اومیگا تھری کے استعمال سے نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل راز ان کا مجموعی طور پر صحت مند طرزِ زندگی، روایتی متوازن غذا، مسلسل جسمانی سرگرمی اور روزمرہ زندگی میں انتہائی کم ذہنی دباؤ میں پنہاں ہے۔