LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم اور ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 منظور پنجاب میں15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان بلدیاتی انتخابات کروانے پر اتفاق مریم نواز سے استحکام پاکستان پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی کی ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال لاہور: چیف جسٹس پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے اعزاز میں استقبالیہ ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، امن و امان، قانون سازی، بانی کے معاملے پر غور ہوگا ملک بھر کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی صورتحال: تربیلا، منگلا اور چشمہ میں ریکارڈ اسٹاک موجود مریم نواز کا ستھرا پنجاب ورکر کو ہر ماہ 5 تاریخ سے قبل ادائیگی یقینی بنانے کا حکم

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید ساڑھے چار فیصد کی کمی

Web Desk

27 June 2026

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے، جہاں مارکیٹ کے منفی رجحانات کے باعث بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کے نرخوں میں مزید ساڑھے چار (4.5) فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

امریکی اور برینٹ کروڈ کے تازہ ترین نرخ تازہ ترین عالمی اقتصادی اعداد و شمار کے مطابق، امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت واضح گراوٹ کے بعد 68 ڈالر 65 سینٹ فی بیرل کی سطح پر بند ہوئی ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی معیار مانے جانے والے برینٹ کروڈ آئل (Brent Crude) کی قیمت بھی نیچے آ گئی ہے اور مارکیٹ میں اس کا نیا سودا 71 ڈالر 52 سینٹ فی بیرل پر ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ عالمی منڈی کے اس مندی کے رجحان سے خلیجی ممالک کی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی ہے، جہاں ابوظبی بینچ مارک “مربان کروڈ” کی قیمت بھی گراوٹ کا شکار ہو کر 67.50 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہونی والی یہ مسلسل کمی سپلائی میں اضافے اور عالمی سطح پر طلب میں متوقع سست روی کا نتیجہ ہو سکتی ہے، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک کے امپورٹ بل پر مثبت انداز میں مرتب ہونے کی امید ہے۔