LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیفا نے قطر کے فٹبالر عاصم مدیبو پر 5 میچز کی پابندی عائد کر دی گوگل سرچ ٹریفک کم ہونے کی وجہ سامنے آگئی ایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ میٹا نے کم قیمت ’اے آئی اسمارٹ چشمے‘ متعارف کرا دیے ایک ہزار عمرہ زائرین شاہ سلمان کے شاہی مہمان بنیں گے عالمی مالیاتی ادارے بارکلے نے پاکستان کے خودمختار ڈالر بانڈز کی درجہ بندی اپ گریڈ کر دی۔ اسرائیل نے خطے میں نیا محاذ کھولنے کی تیاری شروع کردی عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں ایک دن کے وقفے کے بعد سونے کی قیمتوں میں پھر بڑی کمی سوئٹزرلینڈ مذاکرات, 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی سلامتی کونسل نے “امن دستوں کیخلاف جرائم کا محاسبہ” قرارداد منظور کرلی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، چیف جسٹس امین الدین خان کی روس میں عالمی قانونی فورم میں شرکت اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال ایرانی اور سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مذاکراتی عمل اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا تو مختلف آپشنز موجود ہیں: مارکو روبیو فیفا ورلڈ کپ کے ابتدائی دو راؤنڈز میں 5 ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر

سوئٹزرلینڈ مذاکرات, 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی

Web Desk

24 June 2026

ایرانی پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک تاریخی سفارتی کامیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے نتیجے میں بیرونِ ملک منجمد کیے گئے 12 ارب ڈالر کے ایرانی اثاثوں کے فوری اجرا کے لیے دستخطوں کے عمل کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے مابین جاری حالیہ سفارتی مفاہمت کا ایک بڑا نتیجہ قرار دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب، ایک اہم علاقائی مشن کے تحت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) سے متعلق امور پر ہنگامی بات چیت کے لیے سلطنتِ عمان پہنچ گئے ہیں۔ عمانی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد ایرانی اسپیکر نے میڈیا کو بتایا کہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی حساس سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان ‘رابطے کا ایک جدید نظام’ قائم کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا ہے۔ اس نظام کا بنیادی مقصد بحری گزرگاہ میں کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم، غلط فہمی یا سیکیورٹی کشیدگی سے بچنا اور محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی کثیر الجہتی بات چیت کی بنیاد پر لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی بین الاقوامی ضمانت دینے پر بھی اصولی اتفاق کر لیا گیا ہے۔

ادھر تہران میں پریس بریفنگ کے دوران ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جوہری پروگرام کے حوالے سے ملک کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے پہلے سے طے شدہ اصولی طریقہ کار کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تکنیکی تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ تاہم، انہوں نے واشنگٹن اور عالمی برادری پر واضح کیا کہ جوہری معاملات سے متعلق تمام تر حتمی فیصلے ایرانی مشاورتی اسمبلی (پارلیمنٹ) اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی وضع کردہ قومی پالیسیوں اور ہدایات کے مطابق ہی کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ان مثبت سفارتی سفارت کاری کے نتیجے میں امریکہ نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندی عارضی طور پر اٹھا لی ہے۔ اس بڑی امریکی چھوٹ کے بعد ایران آئندہ 2 ماہ تک امریکہ سمیت دنیا بھر کی بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی پیٹرولیم اور دیگر مصنوعات قانونی طور پر فروخت کرنے کا مجاز ہوگا