جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرے اس کے ہاتھ چومنے کو تیار ہوں: محمود خان اچکزئی
Web Desk
24 June 2026
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اسپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کل کے سیشن میں دیے گئے جواب پر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپ اسپیکر کے منصب پر فائز ہیں، آپ کا کام ہماری باتوں کے جواب دینا نہیں ہے؛ تاہم میں اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر آپ کے اٹھائے گئے نکات کا جواب دے رہا ہوں۔ محمود خان اچکزئی نے اپنے حالیہ بیان پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چمن میں جو تقریر کی تھی، وہ پشتو زبان میں تھی۔ انہوں نے اسپیکر کو تجویز دی:
“آپ میجر عامر کی ڈیوٹی لگائیں، وہ پشتو سمجھتے ہیں اور وہ آپ کو اس کا درست ترجمہ کر دیں گے۔ میں نے چمن میں یہ کہا تھا کہ یہاں نہ کوئی قانون ہے اور نہ عدالت، اس لیے عدالتوں سے پیچھے ہٹو اور خود پنچایتوں کے ذریعے اپنے فیصلے کرو۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں پاکستان کے خلاف کوئی لشکر بنا رہا ہوں، ہمارا ہر کارکن تو جمہوریت کا لشکر ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ کیا میں پاگل ہوں جو فوج کے خلاف بات کروں گا؟ اگر آرمی چیف اپنا آئینی کام کریں تو میں ان کے ہاتھ چومنے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشاہد حسین سید نے بتایا تھا کہ سابق صدر غلام اسحق خان نے پوچھا تھا کہ کیا آپ نے افغانستان کے لیے بجٹ رکھا ہے؟ افغانستان ایک آزاد ملک ہے، کیا آپ نے اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانا ہے؟ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان، بھارت اور چین ہمارے پڑوسی ہیں اور ہم اپنے ہمسایوں کو بدل نہیں سکتے۔ اپوزیشن لیڈر نے ملکی سیاسی منظرنامے اور قیدیوں کے حوالے سے درج ذیل مطالبات ایوان کے سامنے رکھے:
جن ججز نے ماضی میں مارشل لاء کی مخالفت کی تھی اور آئین کے ساتھ کھڑے رہے، ریاست انہیں قومی ہیرو ڈیکلیئر کرے۔ جو بچے اور سیاسی کارکنان اس وقت جیلوں میں بند ہیں، حکومت انہیں فوری طور پر ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے آزاد کرے، اس سے ملک کو کچھ نہیں ہوگا بلکہ حالات بہتر ہوں گے۔ہم نے تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود پارلیمانی روایات کے تحت بجٹ کے عمل میں بھرپور حصہ لیا ہے۔
محمود خان اچکزئی نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آپ کا ان جماعتوں سے تعلق مجھ سے پرانا نہیں ہے، آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی ہے؟ حکومت غریبوں کا کام کرے گی تو ہم سپورٹ کریں گے، لیکن اگر گولیاں ماریں گے اور جیلوں میں ڈالیں گے تو سخت مخالفت ہوگی۔ انہوں نے اپنے مخصوص روایتی انداز میں تنبیہ کرتے ہوئے اختتام کیا کہ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ لوگوں کو سننے دیں، “نہ چھیڑو ملنگاں نوں”، ہمیں نہ چھیڑیں ورنہ بہت نقصان اٹھاؤ گے؛ البتہ جو بھی پارلیمنٹ کو مضبوط کرے گا، میں اس کا ہاتھ چومنے کے لیے تیار ہوں۔
متعلقہ عنوانات
فیلڈ مارشل عاصم منیر کل تہران کا دورہ کریں گے: ایرانی وزارت خارجہ
23 August 2026
ایس آئی ایف سی کی ریگولیٹری اصلاحات، کاروباری آسانیوں کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت
23 August 2026
بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر میں بارشوں سے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس
23 August 2026
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کل سے 28 اگست تک برطانیہ کا سرکاری دورہ کریں گے
23 August 2026
ایران مزاحمت اور استقامت کے باعث دنیا کو حیران کرنے والی طاقت بن کر ابھرا: پزشکیان
23 August 2026
جماعت اسلامی کا 12 ربیع الاول کے بعد ملک گیر ہڑتال کا اعلان
23 August 2026
مہنگی منگوائی گئی چینی سستی برآمدکرنےکی اجازت، قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان
23 August 2026
چین کے بغیر امریکا کیلئے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنا ممکن نہیں: نیویارک ٹائمز
23 August 2026