LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرے اس کے ہاتھ چومنے کو تیار ہوں: محمود خان اچکزئی چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ آزاد کشمیر کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود سے متعلق مطالبات مان لئے: رانا ثناء اللہ پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کے کلچر کو برباد کر دیا: خواجہ آصف مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ

آزاد کشمیر کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود سے متعلق مطالبات مان لئے: رانا ثناء اللہ

Web Desk

24 June 2026

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ حکومت نے آزاد کشمیر کی ترقی، عوامی فلاح و بہبود اور بجلی سبسڈی سے متعلق تمام مطالبات من و عن تسلیم کر لیے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان و کشمیریوں کے مابین ایک لازوال، تاریخی اور ناگزیر رشتہ قائم ہے۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ سال کالعدم ایکشن کمیٹی نے حکومت کے سامنے مجموعی طور پر 38 مطالبات پیش کیے تھے، جن پر مظفر آباد میں تفصیلی مذاکرات کیے گئے۔ ان مطالبات میں کوئی ایک بھی ایسا نقطہ نہیں ہے جسے حکومت نے پورا نہ کیا ہو۔ کمیٹی کا بجلی کا نظام درست کرنے کے لیے 10 ارب روپے کی فراہمی کا بڑا مطالبہ تھا، جسے وفاق نے پورا کیا۔

 رانا ثناء اللہ نے موجودہ مراعات کی تفصیلات بتاتے ہوئے اہم حقائق سامنے رکھے

 وفاقی اقدامات کے باعث آج آزاد کشمیر میں بجلی کا ریٹ محض ساڑھے تین (3.5) روپے فی یونٹ ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے لیے گندم پر بھاری سرکاری سبسڈی دی جا رہی ہے۔ مہاجرین کی نشستوں کے آئینی و قانونی معاملے کے حل کے لیے ایک 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ وہ اپنی سفارشات آزاد کشمیر حکومت کو پیش کرے۔ وزیرِ اعظم کے سیاسی مشیر نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے حالیہ طرزِ عمل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر قائم کردہ خصوصی کمیٹی کا بائیکاٹ کیا اور آل پارٹیز کانفرنس (APC) میں شرکت سے بھی صاف انکار کر دیا۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے کئی متبادل آپشنز دیے گئے، مگر انہیں مسترد کر کے “جتھہ کلچر” اور تشدد کا راستہ اپنایا گیا۔

رانا ثناء اللہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس حالیہ احتجاجی کال کا اصل مقصد آزاد کشمیر کے شیڈولڈ انتخابات کو رکوانا ہے؛ تاہم جموں و کشمیر کے مہاجرین کو ان کے بنیادی حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی کوئی بھی کوشش تحریکِ آزادی کے اصل مقصد سے صریح انحراف کے مترادف ہے جسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔