LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی گوجرانوالہ دن دیہاڑے لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ وزیراعظم اور ایرانی صدر کی پریس کانفرنس، مشترکہ امن کوششوں کا اعادہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ‘سی پی ایس پی’ کی جانب سے اعزازی فیلوشپ ڈگری سے نواز دیا گیا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کی بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم لبنان اور اسرائیل میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز، واشنگٹن میں مذاکرات کا پانچواں دور شروع اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس، اسپیکر قومی اسمبلی کے رویے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور، بجٹ مسترد پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس، چار بلز کی منظوری پاکستان اور ایران کا برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ فیلڈمارشل سے ایرانی صدر کی ملاقات، علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا

فلڈ وارننگ سسٹم کی چوری : سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ گیا

Web Desk

23 June 2026

خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں سیلاب کی قبل از وقت اطلاع دینے کے لیے نصب کیے گئے ‘ارلی فلڈ وارننگ سسٹم’ کے اہم آلات کی چوری اور تخریب کاری کے واقعات سامنے آئے ہیں، جس نے ماہرینِ موسمیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق، کمراٹ اور منیال سمیت مختلف وادیوں میں قائم متعدد مانیٹرنگ اسٹیشنوں نے سگنلز بھیجنا بند کر دیے ہیں، جس کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور اچانک آنے والے تباہ کن سیلابوں کی بروقت پیشگوئی کا عمل بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

 ریجنل میٹرولوجیکل سینٹر پشاور کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد فہیم نے بتایا کہ یہ جدید ترین نظام اقوام متحدہ (UN) کے تعاون اور گرین کلائمیٹ فنڈ کے تحت انتہائی حساس گلیشیائی علاقوں کی مسلسل نگرانی کے لیے نصب کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت صوبے کی 8 مختلف وادیوں میں تقریباً 85 جدید ترین آلات لگائے گئے تھے، جن میں آٹومیٹک ویدر اسٹیشن، بارش ناپنے والے میٹر، واٹر لیول سینسرز اور دیگر حساس ڈیوائسز شامل تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان قیمتی آلات کی چوری اور تباہی سے مقامی آبادی کو سیلاب کی صورت میں بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔