LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سوئٹزرلینڈ میں پہلا مذاکراتی دور کامیابی سے مکمل، کردار ادا کرتے رہیں گے: وزیراعظم بشریٰ بی بی کی بیٹی کا اڈیالہ جیل انتظامیہ کے خلاف کارروائی اور مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ، پولیس کو درخواست موصول پنکی کیس میں پردہ نشینوں کے نام ہیں لیکن کچھ بھی نہیں ہوگا,سردار لطیف کھوسہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا سوچا تھا ہاتھ ملانے سے معاملات بہتر ہونگے: بیرسٹر گوہر امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ روڈ میپ پر اتفاق خوش آئند ہے: سوئٹزر لینڈ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے معاملے پر اٹلی سمیت نیٹو اتحادیوں پر کڑی تنقید بجٹ کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہونا عوام پر اضافی بوجھ ہے: حافظ نعیم اپنی جماعت کا دباؤ: برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر کے آج استعفے کا امکان جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا گلگت بلتستان اسمبلی کے 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا ملک کے مختلف علاقوں میں آج بھی بارش کی پیشگوئی پاکستان میں حج 2027ء کیلئے رجسٹریشن کا آج سے باقاعدہ آغاز سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 80 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال امریکہ ایران پیشرفت، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

سحر انگیز آواز سے دلوں کو گرمانے والے قوال امجد صابری کو دنیا چھوڑے 10 برس بیت گئے

Web Desk

22 June 2026

پاکستان کے نامور اور ہر دلعزیز قوال امجد صابری کو ہم سے بچھڑے آج پورے 10 برس بیت گئے ہیں، لیکن ان کی سحر انگیز آواز، محبت بھری یادیں اور لازوال کلام آج بھی دنیا بھر میں کروڑوں دلوں میں دھڑک رہے ہیں۔

امجد صابری نے قوالی کے روایتی فن کو نئی نسل میں ایک منفرد، دلنشین اور جدید رنگ کے ساتھ متعارف کروایا۔ انہوں نے قوالی کو محض ایک فن کے طور پر نہیں اپنایا، بلکہ اپنی روح اور خونِ جگر سے اس کی آبیاری کی۔ وہ جب عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے ‘تاجدارِ حرم’ پکارتے، تو سننے والوں کی آنکھیں نم اور دل مدینہ ہو جاتے۔ ان کی پُردرد آواز میں پڑھے گئے کلام ‘بھر دو جھولی میری یا محمد’ اور ‘میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا’ آج بھی سماعتوں میں رس گھولتے ہیں اور ان کی عدم موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔

مقدس مہینے رمضان المبارک میں 22 جون 2016ء کا وہ سیاہ اور تاریک دن پاکستان کی موسیقی، ثقافت اور قوالی کی تاریخ کا ایک بہت بڑا سانحہ تھا، جب اس درویش صفت فنکار کو ہمیشہ کے لیے ہم سے چھین لیا گیا۔ امجد صابری کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں اس وقت بزدلانہ دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک ٹی وی پروگرام کے لیے جا رہے تھے۔ موٹر سائیکل پر سوار سفاک دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے بعد انہیں شدید زخمی حالت میں عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

آج ان کی دسویں برسی کے موقع پر مداح انہیں یاد کر رہے ہیں، کیونکہ امجد صابری اپنی بے لوث فنی و مذہبی خدمات اور عاجزانہ شخصیت کے باعث رہتی دنیا تک عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔